کشیدگی کے دوران بائیڈن اور ژی کی ملاقات

,

   

واشنگٹن : امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے پیر کوپہلی مرتبہ رو برو ملاقات کی۔بائیڈن کے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے تقریباً دو سال بعد یہ ملاقات ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جب دونوں کے درمیان اقتصادی اور بین الاقوامی سکیورٹی کے معاملات پر کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔انڈونیشیا کے ایک لگژری ریزورٹ ہوٹل میں دونوں قائدین نے مصافحہ کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کیا، جہاں وہ بڑی معیشتوں کے گروپ جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔گفتگو کے آغاز میں صدر بائیڈن نے کہا کہ ان کی اور شی کی یہ “ذمہ داری” ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ ان کی اقوام اپنے اختلافات کو سنبھال سکتی ہیں اور باہمی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔اس موقع پر چینی صدر ژی جن پنگ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں قائدین تعلقات کو بلند سطح پر لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بائیڈن کے ساتھ کھل کر اور گہرائی سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میڈیاکے مطابق دونوں رہنما نے اپنے اپنے ملکوں میں اندورنی طور پر مضبوط سیاسی موقف کے ساتھ یہ ملاقات کی۔صدر بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی نے گزشتہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا اور اب اس کے پاس اگلے ماہ جارجیا میں دوبارہ ہونے والے الیکشن میں اپنی کامیابی کو مزید تقویت دینے کا موقع ہے۔ دوسری طرف چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قومی کانگریس نے صدر شی کو گزشتہ ماہ تیسری ریکارڈ پانچ سالہ مدت کیلئے رہنما منتخب کر لیا۔ملاقات سے قبل صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے کنٹرول حاصل کرنے سے ان کی چین کے صدر ژی جن پنگ کے ساتھ بات چیت میں مزید تقویت ملے گی۔