کمسن طلبہ کو سیاست ٹی وی میں نیوز ریڈر بنانے کی پیشکش

   

فروغ اردو میں روزنامہ سیاست کا اہم کردار، اردو دانی امتحانات کے اسناد کی تقسیم، پروفیسر ایس اے شکور و دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔27 اکٹوبر (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست فروغ اردو کیلئے اقدامات کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اس معاملہ میں حکومتوں سے بھی ٹکر لی اور اپنی جدوجہد میں کامیاب رہی چنانچہ جون 1994ء میں عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے اردو دانی، اردو زبان دانی اور اردو انشاء کے امتحانات شروع کئے گئے، جس میں غیرمسلم اور غیراردو داں طلباء و طالبات، اعلیٰ سرکاری عہدیدادروں بشمول آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اس طرح اب تک 10 لاکھ سے زائد طلبہ اور مرد و خواتین نے روزنامہ سیاست کے ان امتحانات میں شرکت کرتے ہوئے سرٹیفکیٹس حاصل کئے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس اے شکور اور محمد ریاض احمد نے محبوب حسین جگر ہال احاطہ روزنامہ سیاست کے آڈیٹوریم میں تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمد ریاض احمد نے اپنے خطاب میں نیوزایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کا پیغام بھی شرکاء تک پہنچایا جس میں اردو دانی، اردو زبان دانی، اردو انشاء کے امتحانات منعقد کروانے میں مراکز کے ذمہ داروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ روزنامہ سیاست نے فروغ اردو کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہیکہ جن لڑکے لڑکیوں نے اردو کے ان امتحانات میں شرکت کی، انہیں متعلقہ مراکز کے ذمہ داران میں سے چند طلبہ کو منتخب کرکے سیاست ٹی وی روانہ کریں یا ان کے نام کی سفارش کریں تب انہیں کم عمر اور ننھے منے اینکرس کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ ٹی وی پر خبریں پڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ محمد ریاض احمد نے سیاست کی فلاحی اسکیمات و پروگرامس پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ جاریہ سال ان اردو امتحانات میں 87000 بچوں بڑوں نے شرکت کی جن میں 6 سال کے بچوں سے لیکر 70 سال کے مرد و خواتین بھی شامل تھے۔ اس موقع پر چیرمین ڈان ہائی اسکول جناب فضل الرحمن خرم، مفتی مستان، حافظ صابر پاشاہ، جناب محمد دستگیر خان، سید احمد حسین، ایم ایس حسین، حافظ عبدالباسط، خواجہ معین الدین، عرشیہ عامرہ بھی موجود تھے۔ مرحوم منیجنگ ایڈیٹرسیاست جناب ظہیرالدین علی خان کے دونوں فرزندان جناب اصغر علی خان اور جناب فخرالدین علی خان کے ہاتھوں سنٹرس کے نگران خواتین و حضرات میں اسنادات تقسیم کئے گئے۔ شرکاء نے ظہیرصاحب مرحوم کو بار بار یاد کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ تقریب کی صدارت جناب پروفیسر ایس اے شکور نے کی اور کہا کہ مادری زبان کو جو قوم اہمیت دیتی ہے، اس کے وجود کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ سیاست کیریئر گائیڈنس کے نگران جناب ایم اے حمید نے شرکاء اور مہمانوں کا استقبال کیا اور آخر میں شکریہ کا فریضہ بھی انجام دیا۔