دن بھر عدالت میں کھڑا رہنے کی سزا کی دھمکی، توہین عدالت کی درخواست کی سماعت
حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمہ میں حیڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ کو 5 ڈسمبر کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے ۔ عدالت نے دھمکی دی کہ اگر کمشنر حیڈرا احکامات کی تعمیل نہ کریں تو ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا جائے گا اور انہیں دن بھر عدالت میں کھڑے رہنے کی سزا دی جائے گی۔ جسٹس ایم بھٹاچاریہ اور جسٹس بی آر مدھوسدن راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے بتکماں کنٹہ عنبرپیٹ کے معاملہ میں دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ مقامی شخص سدھاکر ریڈی نے درخواست دائر کرتے ہوئے اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے سابق میں رنگناتھ کو ہائیکورٹ کے احکامات کی عدم تعمیل پر حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی لیکن انہوں نے استثنیٰ کی درخواست کی ۔ رنگناتھ نے باچو پلی میں ذخیرہ آب کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں شخصی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی ۔ عہدیدار کی غیر حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ وہ عدالت کے احکامات کی تعظیم کریں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر حیڈرا حاضری کے ذریعہ عدالت کیلئے مشکلات پیدا کرنا نہیں چاہتے، جس پر ڈیویژن بنچ نے کہا کہ ہم عہدیدار کو صبح 10.30 بجے تا شام 4.30 بجے تک عدالت میں کھڑے ہونے کی سزا دے سکتے ہیں لیکن ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ اگر ضرورت پڑی تو عدالت اس طرح کی کارروائی پر مجبور ہوجائے گی۔ عدالت نے عہدیدار کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور کہا کہ رنگناتھ نے کیسا تصور کرلیا کہ انہیں ہر حاضری کے موقع پر استثنیٰ دیا جائے گا۔ ڈیویژن بنچ نے 5 ڈسمبر کو شخصی حاضری کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کردیا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 12 جون کو احکامات جاری کرتے ہوئے حیڈرا کو بتکماں کنٹہ ذخیرہ آب کے کاموں کو روکنے کی ہدایت دی تھی ۔ درخواست گزار سدھاکر ریڈی نے شکایت کی کہ کمشنر حیڈرا جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔1