قطعی فیصلہ تک تقررات مکمل نہ کرنے تلنگانہ ہائیکورٹ کی ہدایت، 9 جون کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔5۔مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے نئے سکریٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر 5000 سے زائد کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کیلئے فائل پر پہلی دستخط کی تھی لیکن یہ معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچ چکا ہے ۔ ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلہ پر حکم التواء تو جاری نہیں کیا تاہم واضح کیا کہ باقاعدہ بنانے کا عمل ہائیکورٹ کے احکامات کے تابع رہے گا۔ تلنگانہ ہائیکورٹ کے وکیشن بنچ جو جسٹس بی وجئے سین ریڈی اور جسٹس اے سنتوش ریڈی پر مشتمل ہے، حکومت کے احکامات کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کی۔ بنچ نے کہا کہ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کا عمل جاری رکھا جائے تاہم اس طرح کے احکامات اور جی او ہائی کورٹ کے قطعی احکامات کے پابند رہیں گے۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 9 جون کو مقرر کی گئی۔ عدالت نے ایسے کیسیس میں مزید کارروائی سے حکومت کو روک دیا جن میں باقاعدہ بنانے کے احکامات ابھی جاری نہیں کئے گئے۔ بنچ کا احساس تھا کہ حکومت باقی جائیدادوں پر ملازمین کو ریگولرائیز کرنے کا عمل جاری رکھ سکتی ہے لیکن آئندہ سماعت تک ریگولرائیزیشن کو قطعیت نہ دی جائے ۔ جی اوما رانی اور پانچ دوسرے بیروزگار نوجوانوں نے کنٹراکٹ ایمپلائیز کو باقاعدہ بنانے کے احکامات کو چیلنج کیا ۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں تقررات کے درست طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر لوگ مستقل ملازم بن سکتے ہیں۔ سینئر کونسل ایس ستیم ریڈی نے درخواست گزاروں کی جانب سے کہا کہ ریاستی حکومت کو تنظیم جدید قانون کے تحت ریگولرائیزیشن کے اختیارات نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے کہا کہ حقیقی مستحق کنٹراکٹ ملازم کی خدمات کو باقاعدہ بنانے حکومت نے ایک پالیسی مرتب کی ہے جس کے تحت جی او نمبر 16 جاری کیا گیا ۔ ہائیکورٹ نے اس مسئلہ پر حکومت سے مزید وضاحت طلب کی ہے۔ر