گاندھی ہاسپٹل میں بلیک فنگس کے مریضوں میں غیرمعمولی اضافہ
حیدرآباد۔26نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مابعد کورونا وائرس بیماریوںمیں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں اور کورونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد میں دیگر کئی عوارض کی نشاندہی ہونے لگی ہے جو کہ اعضائے رئیسہ کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل میں کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کے بعد بلیک فنگس کا شکار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور فی الحال گاندھی ہاسپٹل میں 44بلیک فنگس کے متاثرین زیر علاج ہیں جن میں بیشتر کی سرجری کی جانی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل ڈاکٹر راجہ راؤ نے بتایا کہ بیشتر مریض کافی تاخیر سے دواخانہ پہنچ رہے ہیں اور ان کے دواخانہ پہنچنے کے بعد جب ڈاکٹرس سرجری کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں تو ان کی حالت کو بہتر بنانے میں وقت لگ رہا ہے اسی لئے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں میں کسی بھی قسم کی عوارض کی نشاندہی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں فوری طور پر دواخانہ سے رجوع کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ اگر ان کی صحت کو بہتر بنانے میں تاخیر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ گاندھی ہاسپٹل میں موجود 44 بلیک فنگس کے مریضوں میں بیشتر سی پائپ پر ہیں جبکہ کئی کی سرجری کی جانی ہے اور سرجری اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب ان کی صحت میں استحکام پیدا ہونے لگے۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع سے بھی ایسے مریضوں کے دواخانوں سے رجوع ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں جو کہ مابعد کورونا وائرس عوارض کا شکارہونے لگے ہیں۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ جو مریض کورونا وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں انہیں اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے اور اعضائے رئیسہ کے علاوہ ہڈیوں سے متعلق کسی بھی طرح کی شکایات کی صورت میں فوری طور پر ماہرڈاکٹرس سے رجوع کرتے ہوئے علاج پر توجہ دینی چاہئے۔ بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد ہونے والی شکایات میں بے خوابی ‘ تناؤ‘ اعضاء شکنی ‘ جوڑوں میں درد کے علاوہ چکر و متلی کے ساتھ امراض شکم کی شکایات عام ہونے لگی ہیں اور طویل مدت تک یہ اثرات برقرار رہنے کے سبب مریض میں بے چینی کی کیفیت دیکھی جا رہی ہے علاوہ ازیں کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کے لئے طویل مدت تک ادویات کا استعمال کرنے والوں میں بلیک فنگس کی علامات پائی جا رہی ہیں اسی لئے انہیں فوری طور پر شریک دواخانہ کیا جانے لگا ہے تاکہ بروقت ان کے علاج کو بہتر بنایا جاسکے۔م