ریاض: سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے باور کرایا ہے کہ کوروناوائرس نے یہ ثابت کر دیا کہ غیر معمولی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود سعودی عرب کی معیشت لچک دار اور مضبوط ہے۔ مملکت نئے سیکٹروں میں سرمایہ کاری کامیاب بنا کر نْمو اور ترقی کی سطح کو مضبوط تر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان میں وہ سیکٹر خاص طور پر شامل ہیں جو مستقبل میں عالمی شفایابی میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور ملکوں کو وباؤں سے محفوظ رکھیں گے۔یہ بات شاہ سلمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہی گئی۔ یہ بیان سرمایہ کاری کے سعودی وزیر انجینئر خالد الفالح نے (B-20) بزنس گروپ کے ورچوئل اجلاس کے پہلے روز سعودی فرماں روا کی طرف سے پڑھ کر سنایا۔عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ جی ٹوئنٹی گروپ کے لیے سعودی عرب کی صدارت کا عمومی مقصد تمام لوگوں کے واسطے اکیس ویں صدی کے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مملکت نے رواں سال گروپ کی صدارت کے دوران کوروناکی وبا کے انسانی، سماجی اور اقتصادی اثرات زیر بحث لانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس سلسلے میں جی ٹوئنٹی گروپ نے عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں 21 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی۔ اس کا مقصد تشخیص اور علاج کے آلات کے علاوہ تمام لوگوں میں دواؤں اور ویکسین کی تقسیم کے عمل کو سپورٹ کرنا ہے۔ اسی طرح جی ٹوئنٹی گروپ عالمی معیشت کو بچانے کے لیے اب تک 110 کھرب ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔ جی ٹوئنٹی گروپ نے زیادہ غریب ممالک کو ترجیح دیتے ہوئے 14 ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کو معطل کر دیا۔ خلیج میں سعودی عرب سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ہے جہاں بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن لاگو کیا گیا۔