کورونا بحران میں کولکاتاکی مسلم خواتین کی مثالی فلاحی خدمات

   

امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت ،فیملیوں کا بھی تعاون

کولکاتا: کورونا بحران نے نہ صرف صحت کے شعبے کو متاثر کیا ہے بلکہ روزگار اور عام لوگوں کی زندگی کوبھی متاثر کیا ہے ۔کورونا کی روک تھام کے لئے نافذ لاک ڈاؤن نے یومیہ مزدوری اور غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کے خاندان پوری طرح سے متاثر کردیا گیا ہے ۔بالخصوص شہروں میں فٹ پاتھ اور کچی بستیوں میں رہنے والے افراد کے لئے زندگی گزارنا ہی کافی مشکل ہوگیا ہے۔ اس بحرانی دور میں کولکاتاشہر میں چند مسلم خواتین اپنے این اوز کے ذریعہ فلاحی و امدادی کاموں کے ذریعہ مثال قائم کررہی ہیں ۔‘‘کورنا بحران اور کولکاتاکی مسلم خواتین ’’کے عنوان سے منعقد آن لائن پینل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے عالیہ یونیورسٹی کی شعبہ صحافت کی پروفیسر اور آکاش فائونڈیشن کی نائب صدر غزالہ یاسمین نے کہا کہ کورونا بحران میں کولکاتاکی مسلم خواتین کا ایک نیا روپ سامنے آیا ہے اور یہ خوش آئند بات بھی ہے کہ آج کی خواتین اپنی گھریلوں ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریاں بھی ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر قومی میڈیا اور غیر مسلم معاشرے میں مسلم خواتین سے متعلق جو نظریہ قائم ہے وہ غلط ثابت ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف تحریک میں کولکاتاکی مسلم خواتین نے قائدانہ کرداربھی ادا کیا تھا وہ اس وقت بھی ادا کررہی ہیں ۔سینئر صحافی شبانہ اعجاز کہتی ہیں کہ ان دنوں کولکاتاکے مختلف علاقوں میں جس طریقے سے خواتین فلاحی کام کرتے ہوئے نظر آرہی ہیں وہ بہت ہی خوشنما منظر ہیں ۔میڈیا پر اس کو مثبت انداز میں لیا جارہا ہے اور مسلم معاشرے کے تئیں لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے ۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ ابھی مسلم معاشرے میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔خواتین کو وہ مقام نہیں مل پارہا ہے جس کی وہ مستحق ہیں۔ مشہور سماجی کارکن عظمی عالم تاہم یہ بات قبول کرتی ہیں کہ ہم لوگ اس بحران میں جو کام کررہے ہیں وہ اپنے گھر کے افراد بالخصوص شوہر کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ گھر ، خاندان اور سماجی ذمہ داریوں کے درمیان تواز ن برقراررکھنا کسی بھی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ کولکاتاکی مسلم خواتین جو کورونا بحران میںامدادی و فلاحی کام کررہی ہیں وہ توازن قائم کرتے ہوئے کام کررہی ہیں ۔یہ سب سب خوش کن پہلو ہے ۔
‘‘درخشان فاونڈیشن ’’ کی سربراہ درخشاں امتیاز بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ مسلم خواتین اپنی گھریلوو خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ فلاحی کام کررہی ہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ جب گھر سے باہر نکلتے ہیں گھر پر چھوٹے چھوٹے بچے اور ضعیف والدین ہوتے ہیں ان کی نگرانی و دیکھ بھال م گھر کے دیگر افراد کے کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑ ا کام ہے ۔اس کے علاوہ فلاحی کام کرنے کے لئے فنڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے شوہر کا تعاون ضروری ہوتا ہے ۔وہ کہتی ہیں کہ میرے این جی او کے لئے فنڈ کا سارا انتظام میرے شوہر کرتے ہیں اور میں ان کے تعاون سے ہی میں یہ فلاحی کام کرپارہی ہوں ۔