کورونا سے بچنے عدم احتیاط پر اقلیتی علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ

   

صورتحال سنگین ہوسکتی ہے ۔ ماہرین طب کا خیال ۔ اب بھی گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے سے اجتناب کا مشورہ
حیدرآباد۔31مئی (سیاست نیوز) کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے حکومت کی ہدایات پر عمل نہ کرنا شہر کی اقلیتی آبادیوں کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے اور اگر احتیاط نہیں گیا تووہ علاقہ شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن علاقو ںمیں اقلیتی آبادیاں ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں مریضوں کی تعداد اور روزانہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ سے پریشان عہدیداروں نے علاقہ واری اساس پر سروے اور جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ شہر کی صورتحال کا جائزہ لینے والے عہدیداروں اور طبی ماہرین نے حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتہ میں جو رجحان دیکھا جا رہاہے اسکے مطابق جن علاقوں میں احتیاط نہیں کی جا رہی ہے وہیں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ نام کا انکشاف نہ کرنے کی شرط پر طبی ماہر جو کے گاندھی ہاسپٹل میں برسر خدمت ہیں نے بتایا کہ شہر کے اقلیتی آبادیوں والے علاقوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کے خدشات ہیں اور ان کی اطلاعات میں ان خدشات کی توثیق ہورہی ہے کیونکہ بازاروں کی کشادگی اور ہجوم اور سماجی فاصلہ کی برقراری نہ کئے جانے کے سبب کئی افراد متاثر ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک طبیب کے طور پر یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ اگر احتیاط نہیں کی گئی تو حالات انتہائی سنگین ہو جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی آبادیوں میں سرگرمیوں کے ساتھ ہی کورونا سے حفاظت کے اصولوں کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے اور من مانی شروع ہوچکی اسی لئے اب جو حالات ابتر ہوں گے ان میں بڑی تعداد کا تعلق اقلیتی علاقوں سے ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت کے ساتھ شرائط بھی ہیں

لیکن شہریو ںکو رعایت یاد رہ گئی اور شرائط کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ کنٹینمنٹ علاقو ںکے متعلق کہاجا رہاہے کہ پرانے شہر میں بھی کئی کنٹینمنٹ زون ہیں جبکہ پرانے شہر میں یہ رفتار نہیں تھی ۔ سروے کے مطابق کورونا مریض کے مثبت پائے جانے پر گاندھی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے اور جو اموات ہورہی ہیں ان میں اکثر تشخیص میں تاخیر کی وجہ سے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ شہر ہی نہیں بلکہ ملک میں جو کورونا کے مریض مصدقہ پائے جا رہے ہیں ان میں 80فیصد میں علامتیں نہیں پائی جا رہی ہیں لیکن وہ متاثرہ ہیں اسی لئے بیماری سے محفوظ رہنے ضروری ہے کہ ماسک کے استعمال کے علاوہ غیر ضروری گھروں سے نکلنے اور ہجوم میں جانے سے اجتناب کیا جائے ۔ہندستان کے علاوہ دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرین میں سردی ‘ کھانسی ‘ زکام ‘ نزلہ ‘ تیز بخار کے علاوہ کئی دیگر علامتیں ریکارڈ کی گئی جن کی بنیاد پر علامتیں بتائی گئی ہیں لیکن ہندستان میں غیر علامتی مریضوں کی تعداد میں اضافہ نے طبی ماہرین اور حکومت کے تفکرات میں اضافہ کردیا ہے ایسے میں شہریوں کو چاہئے کہ وہ احتیاط کے ذریعہ اپنی اور گھر والوں کی حفاظت کریں۔اب تک شہر کے جن علاقوں میں کورونا کے مثبت مریض پائے گئے ان میں پرانی حویلی ‘ کشن باغ ‘ ملک پیٹ‘ ونستھلی پورم‘ کلثوم پورہ ‘ ضیاء گوڑہ‘لنگوجی گوڑہ ‘ سری نگر کالونی ‘ میر پیٹ‘اعظم پورہ ‘ این ٹی آر نگر کے علاوہ دیگر شامل ہیں ۔ اب شاہ گنج‘ دیوڑھی خورشید جاہ‘ حافظ بابانگر کے علاوہ دیگر علاقوں میں کورونا متاثرین پائے جانے لگے ہیں۔