تساہل کی بجائے ای ا ین ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع ہونے ماہرین کا مشورہ، بینائی کو خطرہ ممکن
حیدرآباد: کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد عوام کو بلیک فنگس کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ایسے میں ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کورونا سے صحت یابی کے بعد ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع ہوں تاکہ بلیک فنگس کے خطرہ سے بچا جاسکے ۔ بلیک فنگس کے مریضوں سے متعلق سروے میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ کورونا سے نجات ملنے کے 14 تا 18 دنوں میں سخت چوکسی کی ضرورت ہے کیونکہ اسی مدت میں بلیک فنگس حملہ آور ہوسکتا ہے ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بلیک فنگس سے لاپرواہی بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ۔ کئی مریض ایسے ہیں جن کے ڈاکٹرس سے رجوع ہونے تک ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوچکی تھی ۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا سے صحت یاب افراد کو چاہئے کہ وہ اندرون دو ہفتے ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع ہوکر بلیک فنگس سے بچاؤ کی ادویات استعمال کریں۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ شوگر کا شکار افراد بلیک فنگس سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ بلیک فنگس کے زیادہ تر مریض کورونا سے صحت یابی کے دو ہفتے بعد فنگس کا شکار ہوئے۔ ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ صرف انفیکشن کا پتہ چلاسکتے ہیں بلکہ فنگس کی روک تھام کی تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔ ایسے افراد جن کے چہرہ میں تکلیف محسوس ہو یا چہرہ پر سرخ یا سفید دھبے نظر آنے لگیں ، آنکھوں یا دانتوں میں تکلیف محسوس ہو یا پھر آنکھ پر سوجن نظر آئے تو فوری طور پر ای این ٹی اسپیشلسٹ سے رجوع ہونا چاہئے ۔ اس معاملہ میں ذرا سی تاخیر بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے ۔ سروجنی دیوی آئی ہاسپٹل میں بلیک فنگس کے مریضوں کے لئے علحدہ یونٹ قائم کیا گیا ہے ۔ ای این ٹی ہاسپٹل میں سرجری کی تکمیل کے بعد سروجنی دیوی ہاسپٹل میں نگہداشت کی جاتی ہے۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد صحت یابی کے لئے ایک ہفتہ درکار ہوگا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا سے متاثرہ 600 مریض بلیک فنگس کا شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ ابتدائی مرحلہ میں جانچ کی صورت میں مزید نقصان سے بچا جاسکتا ہے ۔