کورونا سے صحت یاب افراد کو رشتہ داروں کی بے اعتنائی کا سامنا

   

گھر لیجانے سے گریز، ہاسپٹلس میں ہی دیکھ بھال ، خونی رشتوں میں احساس رشتہ داری ختم
حیدرآباد : کورونا کے بحران نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے وہی خونی رشتوں کے احساس کو بھی ختم کردیا ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل میں کورونا سے جنگ جیت جانے والے 30 افراد اپنے ہی گھر جانے کی جنگ ہار گئے ہیں ۔ جیسے ہی ڈاکٹروں نے اطلاع دی کہ وہ کورونا پازیٹیو سے نگیٹیو ہوگئے ہیں اور گھر جاسکتے ہیں ان متاثرین کے خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی مگر گھر والوں کی جانب سے گھر لیجانے سے انکار کرنے پر ان کی خوشی ماتم میں تبدیل ہوگئی ۔ ہاسپٹل کے عملے کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کورونا کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ شہر کے تمام سرکاری و خانگی ہاسپٹلس کورونا کے متاثرین سے بھرے پڑے ہیں اور لوگ صحت یاب بھی ہورہے ہیں ۔ گاندھی ہاسپٹل میں ایسے 30 افراد گذشتہ دو ہفتوں سے قیام پذیر ہیں جو کرونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں ۔ جن کے ارکان خاندان نے انہیں گھر لیجانے سے انکار کردیا ہے ۔ ان میں چند افراد ضعیف ہیں چند افراد پہلے سے ہی مختلف امراض کا شکار ہیں چند ذہنی معذورین بھی ہیں جیسے ہی ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ کورونا سے صحت یاب ہوچکے ہیں اور گھر جاسکتے ہیں یہ اطلاع سن کر سب خوش ہوگئے اور گھر جا کر آرام کرنے اور ہاسپٹل میں گزرے گئے کھٹن دنوں سے نجات ملنے کی امید کررہے تھے تاہم ان کی خوشی اس وقت تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی جب گھر والوں نے دوبارہ انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ گاندھی ہاسپٹل کے ذمہ داروں کی جانب سے گھر والوں کو انہیں گھر لیجانے کی اجازت دی تھی ۔ مگر انہیں گھر لیجانے کے لیے گھر والے تیار نہیں ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ راجہ راؤ نے کہا کہ گھر والوں کی بے اعتنائی دیکھ کر صحت یاب ہونے والے 30 افراد کی ہاسپٹل میں دیکھ بھال کی جارہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے متاثرین کا علاج کرنے کے لیے عملہ کی کمی ہے ۔ ایسے میں صحت یاب ہونے والے افراد کو ہاسپٹل میں رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والے یہ افراد دوسرے امراض کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ دوبارہ انہیں کورونا کا خطرہ ہے ۔ انہیں گھر لیجانا ہی بہتر ہے ۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کو گھر لیجانے کے لیے ان کے ارکان خاندان مختلف بہانے کررہے ہیں ۔ کوئی بتا رہا ہے کہ ان کا گھر سنگل بیڈ روم پر مشتمل ہے ۔ گھر میں چھوٹے بچے ہیں ۔ وائرس سے ہم بھی متاثر ہوسکتے ہیں ۔ مزید چند دن ان کے ہاسپٹل میں رہنے سے ان کی صحت کی بہتر نگہداشت ہوسکتی ہے ۔ چند لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزگار کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ۔ خاندان کی کفالت مشکل میں پڑ گئی ہے ۔ گھر کا کرایہ ادا کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہے ۔ ایسی صورت حال میں انہیں گھر لانے سے دوسرے افراد متاثر ہوسکتے ہیں ۔ ان کا علاج کرانے کے لیے مالی مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔ ایسے بھی چند لوگ ہے صحت یاب ہونے والے افراد کو ایک بار بھی دیکھنے کی زحمت نہیں کی ۔ کورونا سے فوت ہونے والے متاثرین کے ارکان خاندان نے نعش لیجانے سے انکار کیا ۔ جی ایچ ایم سی کے عملے نے کئی افراد کی آخری رسومات انجام دی ہے ۔۔