مہلوکین کے ورثاء کو احتجاج پر نعش حوالے۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل
نظام آباد ۔کرونا وائرس میں مبتلا زیر علاج 4 مریضوں کی کل نظام آباد سرکاری دواخانہ میں آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے موت واقع ہوگئی تھی اور اس واقعہ کے بعد بڑے پیمانے پر مہلوکین کے ورثاء کی جانب سے احتجا ج کیا گیا تھا اور احتجاج ختم ہونے کے بعد نعشوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا ان میں سے ایک نعش کو ذریعہ آٹو قبرستان منتقل کیا گیا جو کوویڈ قواعد کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ کوویڈ قواعد کے مطابق نعش کو ایمبولنس کے ذریعہ قبرستان یا شمشان گھاٹ منتقل کرنا چاہئے لیکن نظام آباد سرکاری دواخانہ کا عملہ اس کی کھلے عام خلاف ورزی کرتے ہوئے نعش کو آٹو کے ذریعہ منتقل کردیا حالانکہ ابتداء میں نعش کو ایمبولنس کے ذریعہ پہنچایا جارہا تھا لیکن کل بڑے پیمانے پر احتجاج ہونے کے باوجود بھی عملہ نے بے خوف ہوکر نعش کو آٹو میں منتقل کرنے کیلئے راضی ہوگئے ۔ شہر نظام آباد کے قلب شہر میں سرکاری دواخانہ واقع ہے اور اس کے اطراف و اکناف علاقہ میں گنجان آبادی ہے اور آبادی سے ہوتے ہوئے آٹو گذرنا خطرہ سے کم نہیں ہے ۔ اگر نعش کا وائرس ہوا میں وائرل ہونے کی صورت میں کئی افراد متاثر ہوسکتے ہیں ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عملہ نے آٹو کے ذریعہ نعش کو منتقل کردیا جو کوویڈ قواعد کی کھلے عام دھجیاں اڑادی گئی ۔ اس واقعہ کی اطلاع پر سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل ناگیشور رائو نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس بارے میں تحقیق کرنے کیلئے ایک کمیٹی مقرر کرتے ہوئے پالمونالوجی ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر پی وی رائو ، اسسٹنٹ پروفیسر جنرل میڈیسن ڈاکٹر موسیٰ خان ، اسسٹنٹ پروفیسر اٹانمی ڈاکٹر چندر شیکھر ، ڈاکٹر وشال پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کرتے ہوئے اس خصوص میں تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ۔ ایمبولنس کے بدلے میں آٹو میں نعش کو منتقل کرنے کی وجوہات کی تحقیق کرنے کی ہدایت دی اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔