کورونا سے متاثرہ کرایہ داروں کو مکانداروں کی ہراسانی

   

فوری مکان خالی کرنے کیلئے دباؤ ،کئی مقامات پر کشیدگی
حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) شہر میں کرایہ دارو ںکو کرایہ کیلئے مالکین جائیداد کی جانب سے پریشان کئے جانے کے بعد اب کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر انہیں فوری مکان خالی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہاہے۔ریاستی حکومت کے ان احکام کے بعد اب شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں کرایہ دار اور مالکین جائیداد کے درمیان نئے تنازعات کا آغاز ہونے لگا ہے ۔شہر کے کئی علاقوں سے اس طرح کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں ۔مالکین کا کہناہے کہ مکان میں کورونا مریض کی موجودگی دوسروں کیلئے خطرہ بن سکتی ہے لیکن کورونا وائرس کے متاثرہ کرایہ داروں کا کہناہے کہ وہ گھریلو قرنطینہ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے تمام احتیاط کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مالکین جائیداد انہیں ہراساں کررہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ عطا پور کے علاقہ میں کرایہ دار اور مالکین جائیداد کے درمیان کورونا وائرس کے مریض کی موجودگی کے سبب تنازعہ پیدا ہوا ۔اسی طرح کے کئی ایک واقعات منظر عام پر آرہے ہیں ۔کرایہ دارو ںکا کہناہے کہ مالکین جائیداد کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ وہ بھی انسان ہیں لیکن مالکین جائیداد کا کہناہے کہ اگر کوئی قرنطینہ میں رہتے ہوئے رہنمایانہ خطوط پر عمل کرتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوپا رہاہے۔کورونا وائرس کے متاثرہ مریض کی بہتر نگہداشت کیلئے لازمی ہے کہ مریض کی تشخیص کے ساتھ انہیں آرام کروایاجائے اور کسی بھی طرح کے تناؤ سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے جائیں لیکن اگر مالکین جائیداد اورکرایہ داروں کے مسائل میں اگر اس مسئلہ پر اختلافات ہونے لگتے ہیں تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ کسی بھی مریض کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ کورونا وائرس کی تصدیق پر تخلیہ کروانا درست نہیں ہے۔