شفاء خانہ چارمینار میں سہولتوں کا فقدان، مریضوں کو مشکلات
حیدرآباد: حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں کورونا وائرس کے مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن شہر حیدرآباد میں جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی نشاندہی ہونے لگی ہے اور اب پرانے شہر میں مریضوں کی نشاندہی کے ساتھ اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکاہے لیکن حکومت کی جانب سے پرانے شہر میں کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں بلکہ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ میں صرف کنگ کوٹھی دواخانہ ایک ایسا دواخانہ ہے جہاں حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانہ میں آکسیجن بستر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پرانے شہر میں تاریخی چارمینار کے دامن میں موجود شفاء خانہ یونانی نظامیہ طبی کالج میں حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کئیر سنٹر قائم کیا گیا ہے اور اس مرکز کو قرنطینہ کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہاہے لیکن اس180بستروں والے قرنطینہ کے مرکز میں کوئی سہولت موجود نہیں ہے بلکہ 180 بستروں پر مشتمل سرکاری قرنطینہ مرکز قائم کردیا گیا ہے لیکن ایک بھی آکسیجن بستر موجود نہیں ہے جو کہ ثابت کرتا ہے کہ ریاستی حکومت کا پرانے شہر کے ساتھ سوتیلا سلوک ہمیشہ سے رہا ہے اور اب جبکہ حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں ایسے میں بھی پرانے شہر میں ایک بھی ایسا سرکاری دواخانہ ایسا نہیں ہے جہاں آکسیجن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور خانگی دواخانوں میں یومیہ 15ہزار سے 1لاکھ روپئے تک کی وصولی کی جا رہی ہے جو کہ پرانے شہر کے بیشترشہری اداکرنے کے موقف میں نہیں ہیں اور شہریوں کی جانب سے سوال نہ کئے جانے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر کوئی اس صورتحال میں اپنے گھروں میں موجود مریضوں کو دواخانہ لیجانے کے بجائے گھر پر ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لئے اسے آکسیجن سیلنڈر درکار ہے لیکن وہ آکسیجن سیلنڈر بھی حاصل نہیں ہوپا رہے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں گاندھی ہاسپٹل کو کورونا وائرس کے لئے مخصوص دواخانہ قرار دیا گیا ہے اور اس دواخانہ میں سکندرآباد کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں کے مریض داخلہ حاصل کریں گے اور شہر کے دیگر علاقوں سے بھی کئی لوگ پہنچیں گے اسی طرح تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں گچی باؤلی‘ مادھا پور‘ ٹولی چوکی تک کے مریض داخلہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔