ایسڈ ریفلکس کی عام شکایت، آنتوں میں خون منجمد اور درد شکم میں اضافہ
حیدرآباد۔3اکٹوبر(سیاست نیوز) کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں میں خون منجمد ہونے کے علاوہ عوارض قلب‘ گردہ و مثانہ کے علاوہ ہڈیوں کے امراض میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا لیکن اب کورونا وائرس کا کامیاب علاج کروانے والوں میں ایسڈ ریفلکس کی شکایات عام ہونے لگی ہیں اور ایسڈ ریفلکس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اچانک آنتوں میں خون منجمد ہونے اور شدید درد شکم کی شکایات کے ساتھ مریض دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں۔ نظامس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے رجوع ہونے والے مریضوں کے آپریشن اور ان کی چھوٹی آنت کو نکالنے کے اقدامات کئے گئے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ آنتوں میں خون منجمد ہونے کے سبب شدید درد شکم کی شکایت کے ساتھ مریض دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں اور ان مریضوں میں کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے درکار اینٹی باڈیز موجود ہیں لیکن آنتوں میں خون منجمد ہونے کے سبب ان کی چھوٹی آنت کو بذریعہ آپریشن نکالنا پڑرہا ہے۔ نمس کے علاوہ دیگر دواخانوں سے بھی اس طرح کے مریضوں کے رجوع ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ ماہر امراض شکم ڈاکٹر ونئے کمار نے اس سلسلہ میں گفتگو کرنے پر بتایا کہ کورونا وائرس کے علاج کے بعد ایسڈ ریفلکس معمول کی بات ہیں کیونکہ کورونا وائرس کے علاج کے دوران مریضوں کو اضافی اور بھاری مقدار میں جو ادویات دی جارہی ہیں ان کے منفی اثرات ایسڈ ریفلکس کی شکل میں سامنے آنے لگے ہیں لیکن ایسڈ ریفلکس کا شکار ہونے والوں کا علاج کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ ان کا بہ آسانی علاج کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ونئے کمار نے بتایا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران انہوں نے ایسڈ ریفلکس کا شکار ہونے والے زائد از 1200 مریضوں کا علاج کیا ہے اور انہیں ادویات تجویز کی ہیں جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ انہو ںنے آنتوں کی سوزش اور آنتوں میں خون کے انجماد کے سلسلہ میں دریافت کرنے پر کہا کہ اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں اسی لئے اس مرض میں مبتلا ء ہونے والوں کی مکمل تحقیق ناگزیر ہے۔ماہرین امراض شکم کا کہناہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے دوران خون جمنے کے خدشات کے تحت ڈاکٹرس کی جانب سے خون کو پتلا رکھنے کے لئے بھی ادویات تجویز کی جاتی رہی ہیں لیکن جن 6مریضوں کی چھوٹی آنت نکالنے کیلئے آپریشن کئے گئے ہیں ان میں کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ وائرس کا شکار ہوئے تھے اسی لئے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ انہیں خون کے منجمد ہونے کے متعلق کوئی علم نہیں تھا اسی لئے انہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔م