گنٹور اور ورنگل میں واقعات، رشتہ داروں کا احتجاج ،کشیدگی
حیدرآباد۔ کورونا ٹیکہ اندازی نے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 2 ہیلت ورکرس کی جان لے لی ۔ آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میں 42 سالہ آشا ورکر وجئے لکشمی جسے 19 جنوری کو ٹیکہ دیا گیا تھا وہ آج جانبر نہ ہوسکی۔ ٹیکہ اندازی کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی جس پر گورنمنٹ جنرل ہاسپٹل گنٹور میں شریک کیا گیا تھا علاج کے دوران آج صبح وہ جانبر نہ ہوسکی۔ آشا ورکر کے افراد خاندان نے الزام عائد کیا کہ کورونا ویکسین سے موت ہوئی ہے۔ گنٹور کلکٹر سیمول آنند نے ہاسپٹل پہنچ کر افراد خاندان سے ملاقات کی اور فرزند کو ملازمت، امکنہ اراضی اور مناسب معاوضہ کا تیقن دیا۔ کلکٹر نے کہا کہ آشا ورکر کی موت کی حقیقی وجہ کا پوسٹ مارٹم کے بعد پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں 10099 ہیلت کیر اسٹاف کو گذشتہ 8 دنوں میں ٹیکہ اندازی کی گئی لیکن ایک بھی ری ایکشن کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اسی دوران آشا ورکرس نے ہاسپٹل کے روبرو احتجاج منظم کرکے متوفی کے پسماندگان کو 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا مطالبہ کیا۔ آشا ورکر کے بھائی نے کہا کہ پہلے خانگی ہاسپٹل منتقل کیا گیا بعد میں صحت بگڑنے پر سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے محفوظ کردیا گیا ہے۔ ساتھی آشا ورکرس اور رشتہ داروں کے احتجاج کے سبب صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ اسی دوران ورنگل ( اربن ) ضلع کے شایم پیٹ میں 19 جنوری کو ٹیکہ لینے والی 45 سالہ خاتون ہیلت ورکر کی آج موت ہوئی ۔ 19 جنوری کو پرائمری ہیلت سنٹر میں اس کی ٹیکہ اندازی ہوئی تھی۔ طبیعت بگڑنے پر اسے ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تھا جہاں وہ آج جانبر نہ ہوسکی۔ ویکسین ری ایکشن کا جائزہ لینے والی ضلعی کمیٹی اس معاملہ کی جانچ کررہی ہے اور وہ ریاستی کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی۔