چیف منسٹر مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں، کرفیو کے اوقات میں توسیع کی تجویز پرماہرین سے مشاورت، عنقریب جائزہ اجلاس
حیدرآباد: ہائی کورٹ کی جانب سے کورونا پر قابو پانے کیلئے حکومت کے اقدامات کو غیر اطمینان بخش اور نائیٹ کرفیو کو ناکافی قرار دینے کے بعد حکومت کی جانب سے نئی تحدیدات کے بارے میں غور و خوض کیا جارہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اس مسئلہ پر اعلیٰ عہدیداروں اور ماہرین سے ٹیلیفون پر مشاورت کی ہے تاکہ عوام کی نقل و حرکت پر روک لگانے کیلئے تحدیدات میں سختی پیدا کی جائے ۔ ذرائع کے مطابق 30 اپریل کو مجالس مقامی کے انتخابات کی رائے دہی کی تکمیل کے بعد حکومت نائیٹ کرفیو کے اوقات میں اضافہ یا پھر مکمل لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی فیصلہ کرے گی۔ چیف منسٹر نے موجودہ صورتحال کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کورونا کیسیس اور اموات کے علاوہ احتیاطی تدابیر پر عمل آوری کے سلسلہ میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کوئی فیصلہ کرے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض گوشوں سے حکومت کو تجویز پیش کی گئی کہ کم از کم ایک ہفتہ کا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے تاکہ عوامی نقل و حرکت پر روک لگاتے ہوئے کورونا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ بعض ماہرین لاک ڈاؤن کے بجائے جاریہ نائیٹ کرفیو کے اوقات میں اضافہ کی سفارش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے نائیٹ کرفیو کو کورونا پر قابو پانے کے معاملہ میں ناکافی قرار دیا تھا ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے عوام کی نقل و حرکت روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہے ، ان کا ماننا ہے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں نہ صرف معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ چھوٹے اور متوسط تاجروں کو نقصان ہوگا۔ ایسے وقت جبکہ رمضان المبارک کی خریداری کے بارے میں تاجرین پرامید ہیں۔ ایسے میں مکمل کرفیو کے نفاذ سے نہ صرف تاجروں بلکہ روز مرہ کام کرنے والے مزدوروںکو نقصان ہوگا۔ تلنگانہ سے ہزاروںکی تعداد میں مائیگرنٹ ورکرس آبائی مقامات واپس ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر نے مائیگرنٹ ورکرس کی واپسی کو روکنے کیلئے عہدیداروں کوہدایت دی ہے۔ ورکرس کی منتقلی سے صنعتوں میں پیداوار متاثر ہوگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر مکمل لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہیں اور وہ عہدیداروں اور ماہرین کے ساتھ متبادل امکانات تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 30 اپریل تک اس سلسلہ میں حکومت کوئی فیصلہ کرلے گی۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق غریب اور متوسط طبقات کو نشانہ بنائے بغیر تحدیدات کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔