پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف 20 جون کو ملک گیر احتجاج
حیدرآباد۔ 18 جون (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کورونا وائرس پر قابو پانے میں مرکز و ریاستی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں نے عوام کو وائرس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داری نبھانے سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں روزانہ کورونا پازیٹیو کیسس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ جن میں ڈاکٹرس، جرنلٹس اور صفائی عملہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی میں سرگرم شعبہ جات کو حکومت کی جانب سے پی پی ای کٹس فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گچی بائولی میں قائم کردہ کووڈ ہاسپٹل ابھی تک شروع نہیں کیا گیا۔ حکومت کی لاپرواہی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ گچی بائولی کا ہاسپٹل مریضوں کے لیے بحال نہیں ہوا ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مرکز نے 20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کا اعلان کیا لیکن غریب اور متوسط طبقات کو اس پیاکیج سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مائننگ کو خانگیانے کے فیصلے کے خلاف تین جولائی کی ملک گیر ہڑتال کو سی پی آئی کی تائید حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 20 جون کو سی پی آئی ملک بھر میں احتجاج منظم کرے گی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے قواعد کی پابندی کرنے والے کسانوں کو رعیتو بندھو امداد دینے کے فیصلے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں پر فصلوں کو اگانے کے لیے تحدیدات عائد کی جارہی ہیں۔ سی پی آئی قائد نے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرس کے وظیفے میں کٹوتی سے متعلق آرڈیننس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔