آستانہ ۔ کرغستان میں ایک زہریلی جڑی بوٹی کو کورونا وائرس کے علاج کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ملک کو صحت کے حوالے سے سنجیدہ انتباہ کے باوجود انفیکشن کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے جمعہ کے روز کورونا وائرس کے اس علاج کا کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ ملک کے صدر نے پچھلے سال اس بوٹی کے ذریعہ ہزاروں بیمار قیدیوں کا علاج اس وقت کیا جب وہ جیل میں تھے۔ وزیر صحت الیمکادر بیشنالئیف نے صحافیوں کے سامنے اس محلول کے گھونٹ بھی بھرے جو ایکونائٹ نامی زہریلے پودے سے بنا تھا، انہوں نے صحافیوں کو اس کے علاج کی خصوصیات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ بتاتے ہوئے وہ محلول کو غٹاغٹ پی گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ کو اسے گرم گرم پینا ہے اور اس کے دو یا تین روز بعد وہ مریض بھی بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا پی سی آر ٹیسٹ پازیٹیو ہوتا ہے۔
