ہندوستان میں کووڈمریضوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب، دنیا میں انڈیا کا ساتواں نمبر، 95,526متاثرین صحت یاب
نئی دہلی ۔ 2 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) وزارت صحت نے کہا ہے کہ انوکھے کورونا وائرس کے سبب اموات کی تعداد ہندوستان میں بڑھ کر منگل کو 5,598 ہوگئی جو ایک دن میں 204 کا اضافہ ہے جبکہ 8171 نئے کیسوں کے ساتھ متاثرین کی تعداد زائد از 1.98 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ کورونا وائرس مرض (کووڈ۔19 ) کے فعال معاملے بڑھ کر 97,581 ہوگئے ہیں لیکن 95,526 مریض صحت یاب بھی ہوئے۔ ایک صحت یاب مریض بیرون ملک منتقل ہوا ہے ۔ وزارت کے عہدیدار نے سرکاری ڈیٹا کے مطابق کہا کہ ابھی تک 48.07 فیصد مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ دو لاکھ کے قریب جملہ متاثرین ہوجانے سے ہندوستان اب کورونا سے متاثرہ اقوام میں ساتواں بدترین ملک ہے۔ امریکہ ، برازیل ، روس ، برطانیہ ، اسپین اور اٹلی کے بعد انڈیا کا نمبر ہوگیا ہے۔ پیر کی صبح سے پیش آئی مزید 204 اموات میں مہاراشٹرا کے 77 ، دہلی کے 50 ، گجرات کے 25 اور ٹاملناڈو کے 11 شامل ہیں۔ مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش میں 8 ، 8 مریض فوت ہوئے جس کے بعد تلنگانہ میں 6 اور راجستھان اور اترپردیش میں 4 ، 4 اموات شامل ہیں۔ بہار ، جموں و کشمیر ، آندھراپردیش ، ہریانہ ، کرناٹک ، کیرالا اور اترکھنڈ میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا موت واقع ہوئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ زائد از 70 فیصد اموات ایک سے زیادہ بیماریوں کی وجہ سے پیش آئی ہیں۔ سب سے زیادہ مصدقہ معاملے 70,013 مہاراشٹرا میں درج ہیں، جس کے بعد ٹاملناڈو میں 23,495 ، دہلی میں 20,834 اور گجرات میں 17,200 کا نمبر ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور اترپردیش بھی شدید متاثرہ ریاستوں میں شامل ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام جمو ں و کشمیر میں متاثرین کی تعداد بڑھ کر 2,601 ہوگئی اور وہاں 33 اموات پیش آئیں۔
کورونا بحران میں خاتون ملازمین زیادہ متاثر
اس دوران عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) وبا کی وجہ سے مندی سے دوچار معاشی سرگرمیوں پر خواتین ملازمین پر زیادہ اثر پڑا ہے ۔ ورلڈ اکنامک اسٹیج کی ایک رپورٹ میں یہ جانکاری دی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق دنیا (چین کو چھوڑ کر) میں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے شعبوں کے 44 کروڑ ملازموں میں بے روزگاری کاسامنا کرنے والی خواتین کی تعداد 31 کروڑ ہے ۔ اس معاملے میں مرد ملازمین بہتر حالت میں ہیں اورتیرہ کروڑ مرد ملازمین بے روزگاری کا سامنا کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس کے پس پردہ ایک بڑی وجہ ’سماجی تعصب‘ ہے جو صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود ہے ۔ مشکل وقت میں، دونوں آجر اورخاندان خواتین کی نوکری کو بہت زیادہ ضروری خیال نہیں کرتے ہیں۔