عوام خوف زدہ نہ ہوں، پہلی اور دوسری لہر میں قوت مدافعت میں اضافہ
حیدرآباد۔ملک میںکورونا کی امکانی تیسری لہر کے اندیشوں کے درمیان محکمہ صحت کے عہدیداروں نے یہ کہتے ہوئے عوام کی تشویش کو کم کردیا ہے کہ تیسری لہر زیادہ سنگین نہیں رہے گی۔ تلنگانہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کے بارے میں پہلے تو یقینی طور پر کچھ بھی کہنا مشکل ہے اور اس کے رونما ہونے کی صورت میں امکانی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے سائنسداں کام کررہے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر تیسری لہر آتی ہے تو وہ زیادہ سنگین اور خطرناک نہیں ہوگی لہذا عوام کو خوف کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماہرین نے یہاں تک کہا کہ تیسری لہر کے متاثرین کو دواخانوں میں شریک کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی اور گھر پر ہی ان کا بہتر علاج کیا جاسکے گا۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر رمیش ریڈی نے کہا کہ پہلی اور دوسری لہر کے دوران عوام نے احتیاطی تدابیر کے ذریعہ اپنی قوت مدافعت میں کسی قدر اضافہ کرلیا ہے لہذا تیسری لہر ابتدائی دو لہر کے مقابلہ کمزور ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تیسری لہر اس لئے بھی زیادہ اثر انداز نہیں ہوگی کیونکہ عوام کی کثیر تعداد پہلی اور دوسری لہر میں متاثر ہوچکی ہے اور علاج و احتیاط کے ذریعہ قوت مدافعت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکہ اندازی کی مہم کے مثبت اثرات برآمد ہوں گے۔ آئندہ تین ماہ میں ریاست کی 50 فیصد آبادی کا ٹیکہ اندازی میں احاطہ کرلیا جائے گا۔ ڈاکٹر رمیش ریڈی نے کہا کہ کورونا کا اثر موقتی طور پر نہیں بلکہ طویل مدتی ثابت ہوسکتا ہے۔ ریاست میں نئے کیسس اور کیسس کی پازیٹیو شرح میں قابل لحاظ کمی آئی ہے جس کے نتیجہ میں تیسری لہر تلنگانہ میں زیادہ اثر انداز اور مہلک ثابت نہیں ہوسکتی۔ رمیش ریڈی نے کہا کہ عوام کو احتیاطی تدابیر میں کسی بھی کوتاہی سے بچنا چاہیئے کیونکہ کورونا میں احتیاط ہی علاج سے بہتر ہے اور تیسری لہر سے بچاؤ کیلئے ہر شخص اپنے طور پر چوکس رہے۔