کورونا کے بدلتے رنگ ،تلنگانہ میںکورونا کا پتہ چلانے روایتی ٹسٹ بے فیض

   

ریاپڈ انٹیجن اورآر ٹی پی سی آر ٹسٹ کے بجائے ایچ آر سی ٹی ٹسٹ کیلئے ماہرین کا مشورہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں کورونا کے کیسس میں اضافہ نے محکمہ صحت اور ڈاکٹرس کیلئے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت ایک طرف کورونا کے بہتر علاج کیلئے سرکاری دواخانوں میں 10 ہزار بستروں کے اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے تو دوسری طرف کورونا کے مریضوں کا پتہ چلانے کیلئے موجود ٹسٹوں کے نتائج پر شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس نے اپنے آپ کو تبدیل کرلیا ہے اور وہ طرح طرح سے انسانوں پر حملہ آور ہورہا ہے۔ کورونا کے دن بہ دن بدلتے رنگ ماہرین کیلئے دشواریوں میں اضافہ کا سبب بن چکے ہیں۔ عام طور پر ریاپڈ انٹیجن اور آر ٹی پی سی آر ٹسٹوں کے ذریعہ کورونا کی موجودگی اور اس کی شدت کا پتہ چلایا جاتا ہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ کورونا نے اپنی چالاکی کے ذریعہ ان دونوں ٹسٹوں کو بھی مات دے دی ہے۔ بیشتر مریض جو راپڈ انٹیجن اور آر ٹی پی سی آر ٹسٹوں میں نگیٹیو پائے گئے باوجود اس کے وہ کورونا کی شدت سے بچ نہیں سکے اور لاپرواہی کے نتیجہ میں مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔ عام طور پر دونوں ٹسٹوں کے نتیجہ کے بعد ڈاکٹرس اور مریض دونوں کورونا کے علاج کے بجائے دیگر امراض کے علاج میں مصروف ہوگئے۔ اس دوران کورونا نے جسم کے اندونی حصہ میں پھیپھڑوں، قلب اور گردوں کو نشانہ بنایا۔ کورونا کی اس سنگینی کے پیش نظر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کورونا کا پتہ چلانے کیلئے ایچ آر سی ٹی اسکیان کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ پھیپھڑوں میں موجود انفیکشن سے کورونا کی موجودگی اور اس کے اثر کا پتہ چلایا جاسکے۔ عام طور پر ڈاکٹرس ایچ آر سی ٹی اسکیان کا مشورہ اسوقت دیتے ہیں جب ابتدائی دونوں ٹسٹوں میں مریض کورونا پازیٹیو پایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی علامات کے اظہار یا علامات کا عدم اظہار دونوں صورتوں میں ڈاکٹرس کو چاہیئے کہ وہ مریضوں کو ایچ آر سی ٹی اسکیان کا مشورہ دیں تاکہ پھیپھڑوں میں موجود انفیکشن کے ذریعہ کورونا کی شدت کا پتہ چلایا جاسکے۔ گزشتہ تین ماہ تک بھی آر ٹی پی سی آر کورونا کا پتہ چلانے کیلئے ہر سطح پر قابل قبول ٹسٹ تصور کیا جارہا تھا لیکن کورونا کی دوسری لہر میں بڑھتی اموات نے اس ٹسٹ کو بے اثر کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرس نے ریاپڈ انٹیجن اور آر ٹی پی سی آر کے بجائے ڈی ڈائمر اور ایچ آر سی ٹی ٹسٹ کرانے کا آغاز کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر میں کورونا کی جسم میں موجودگی کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے۔ کورونا وقتاً فوقتاً اپنی ہئیت اور حالت میں تبدیلی کررہا ہے جس کے نتیجہ میں طبی ماہرین کو اس کے تعاقب میں دشواری ہورہی ہے۔ ناک اور منہ سے لعاب کے نمونے حاصل کرتے ہوئے کئے جانے والے ٹسٹوں کو کورونا نے ناکارہ ثابت کردیا ہے کیونکہ محض لعاب کے نمونوں سے اس کے وجود کا پتہ چلانا مشکل ہوچکا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ نگیٹیو رپورٹ کے بعد کورونا سے غافل ہورہے ہیں لیکن بعد میں علامات ظاہر ہورہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 30 فیصد علامتی مریض ایسے ہیں جو آر ٹی پی سی آر ٹسٹ میں نگیٹیو تھے۔ کورونا حملہ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے سبب ڈاکٹرس و طبی ماہرین نے وائرس کا پتہ چلانے روایتی انداز کے ٹسٹوں کے بجائے دیگر ٹسٹوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرس کی جانب سے ڈی ڈائمر اور ایچ آر سی ٹی ٹسٹ کی سفارش کی جارہی ہے۔