ہریش راؤ و رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈی سیلف کورنٹائن، وزراء نے پروگرامس منسوخ کردیئے، رکن اسمبلی متاثر
حیدرآباد /13 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں پھر ایک مرتبہ کورونا وائرس کے قہر میں اضافہ نے وزراء و عوامی نمائندوں اور عہدیداروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے نہ صرف گریٹر حیدرآباد بلکہ کئی اضلاع میں دوبارہ اپنی موجودگی ظاہر کی ہے۔ سرکاری دفاتر میں کورونا واقعات منظر عام پر آنے کے بعد وزراء، ارکان مقننہ اور اعلیٰ عہدیداروں نے چوکسی اختیار کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر فینانس ہریش راؤ نے خود کو سیلف کورنٹائن کرلیا ہے۔ کلکٹر سدی پیٹ نے بھی خود کو سیلف کورنٹائن کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ سدی پیٹ میں کورونا کے کیسس منظر عام پر آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہریش راؤ نے سدی پیٹ میں واقع اپنی قیامگاہ میں ایک قریبی مددگار میں کورونا پازیٹیو پائے جانے کے بعد خود کو ہوم کورنٹائن کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر فینانس کے ساتھ موجود 51 افراد پر مشتمل عملے کا کورونا ٹسٹ کیا گیا جن میں ریاستی وزیر اور دیگر 17 افراد کا نتیجہ منفی پایا گیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ دیگر افراد میں کورونا علامات منظر عام پر آئیں گی لہذا ہریش راؤ نے خود کو سیلف کورنٹائن کرنے کا فیصلہ کیا۔ متحدہ ورنگل ضلع میں ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ایم یادگیری ریڈی میں کورونا کی علامات پائی گئیں اور ان کا حیدرآباد کے خانگی ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ طبیعت کی خرابی پر رکن اسمبلی کو حیدرآباد کے خانگی ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں ان کا نتیجہ پازیٹیو رہا۔جنگاؤں اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے یادگیری ریڈی کو چند دن قبل علاج کیلئے حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا۔
حکام یادگیری ریڈی کے حامیوں اور حالیہ عرصہ میں ملاقات کرنے والوں کی نشاندہی کررہے ہیں تاکہ ان میں کورونا وائرس کا پتہ چلایا جاسکے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بھونگیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بھی خود کو سیلف کورنٹائن کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ایک اسٹاف ممبر میں کورونا پازیٹیو کی علامات پائی گئیں جس کے بعد انہوں نے خود کو سیلف کورنٹائن کرلیا اور توقع ہے کہ ان کا کورونا ٹسٹ کیا جائے گا۔ قبل ازیں گریٹر حیدرآباد کے میئر بی رام موہن اور ان کے افراد خاندان بھی سیلف کورنٹائن ہوچکے ہیں۔ میئر کے ڈرائیور میں کورونا کی علامات پائی گئی تھیں۔ حالیہ عرصہ میں بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سی ایچ رامچندرا ریڈی بھی کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اس طرح سیاسی حلقوں میں بھی کورونا سے ہلچل پیدا ہوچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی وزراء نے اضلاع میں اپنی سرگرمیوں اور پروگراموں کو منسوخ کردیا ہے۔ کئی وزراء اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مختلف پروگراموں میں شرکت کررہے تھے جن میں عوام ہجوم کی شکل میں شریک تھے۔ ہجوم کے مقامات سے دور رہنے سے متعلق محکمہ صحت کی ہدایت کے بعد وزراء نے اپنے پروگراموں کو منسوخ کرتے ہوئے خود کو گھروں تک محدود کرلیا ہے۔ زائد عمر کے وزراء کو پابند کیا گیا کہ وہ اشد ضرورت کے بغیر مکانات سے نکلنے سے گریز کریں اور سرکاری کام کاج گھروں سے انجام دیں۔ وزراء اور ارکان مقننہ نے کورونا کے خطرہ کے پیش نظر اپنے اسٹاف کی تعداد میں کمی کردی ہے۔ کئی اسٹاف ممبرس کو صورتحال بہتر ہونے تک گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی وکونسل جن کی عمر 60 سال سے زائد ہے انہیں حکام کی جانب سے چوکسی کی ہدایت دی گئی۔ کئی ارکان مقننہ نے اپنے گن مین اور ڈرائیورس کو چھٹی پر بھیج دیا اور وہ خود کار ڈرائیو کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ٹی آر ایس کے رکن کونسل کے پربھاکر نے ڈرائیور اور گن مین کے بغیر خود کار چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے آفس پرگتی بھون میں کورونا کیسس منظر عام پر آنے کے بعد وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کو بار بار آنے سے منع کردیا گیا ہے۔ تاحال تلنگانہ سکریٹریٹ کے علاوہ جی ایچ ایم سی ہیڈکوارٹر اور دیگر دفاتر میں بھی کورونا کیسس منظر عام پر آچکے ہیں۔ اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بھی اپنے قائدین اور عوامی نمائندوں کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت دی ہے۔ گاندھی بھون میں روزانہ کی پریس کانفرنسوں کی روایت کو ختم کردیا گیا اس کی جگہ فیس بک یا پھر آن لائن پریس کانفرنس کی جارہی ہے۔ قائدین اپنے گھروں سے ہی سوشیل میڈیا کے ذریعہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ گاندھی بھون میں قائدین کی آمدورفت میں کمی ہوچکی ہے۔