کورونا کے مریضوں اور اموات کی حقیقی تعداد کے انکشاف سے گریز

   

ہیلت بلیٹن کی تفصیلات نامکمل، گھروں اور خانگی ہاسپٹلس کے اعداد و شمار نظرانداز
حیدرآباد : تلنگانہ میں کورونا کیسیس میں کمی کا حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے لیکن ڈاکٹرس اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مریضوں کی حقیقی تعداد کے انکشاف سے حکومت گریز کر رہی ہے ۔ مریضوں کی تعداد کے علاوہ اموات کی تعداد کم ظاہر کی جارہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس کے مارچری سے کورونا سے فوت افراد کی نعشوں کی حوالگی کے سلسلہ میں رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں جس میں بتایا گیا کہ حکومت کے اعداد و شمار سے حقیقی اموات کہیں زیادہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے میڈیکل بلیٹن میں صرف 50 فیصد مریضوں کا انکشاف کیا جارہا ہے۔ بیشتر معاملات میں مریضوں کے رشتہ داروں کے اصرار پر ہاسپٹلس کورونا کے زمرہ میں موت درج کرنے کے بجائے نعش حوالے کر رہے ہیں ۔ کئی مشتبہ اور ایسے مریض جن میں کورونا علامتیں نہیں ہے ، ان کی موت پر رشتہ دار کسی ٹسٹ کے بغیر نعش حوالے کرنے اصرار کر رہے ہیں ۔ ٹسٹ کے بغیر کئی مریضوںکی سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں موت واقع ہورہی ہیں لیکن ان کا شمار کورونا کے زمرہ میں نہیں کیا جارہا ہے۔ ایسے افراد جن میں سانس لینے میں دشواری ہو یا پھر آکسیجن کی سطح گھٹ چکی ہو ، ان کی سٹی اسکان رپورٹ میں پھیپھڑوں میں انفیکشن کا پتہ چل رہا ہے اور ان میں 50 فیصد کورونا ٹسٹ سے پہلے ہی فوت ہورہے ہیں۔ بعض ایسے مریض ہیں جن کی گھروں پر علاج کے دوران یا پھر ہاسپٹل منتقلی کے دوران موت ہورہی ہیں۔ ایسے تمام مریضوں کی موت کو کورونا کے زمرہ میں شامل نہیں کیا گیا

جس کے نتیجہ میں فوت افراد کی تعداد کم ظاہر کی جارہی ہے ۔ کوئی خاندان یہ نہیں چاہتا کہ اس کے فرد کے ساتھ کورونا کا لیبل لگادیا جائے ۔ لہذا وہ ہاسپٹل ٹسٹ کے بغیر ہی نعش کو منتقل کر رہے ہیں۔ ہاسپٹل میں زیر علاج مریضوں کو کورونا پازیٹیو کے باوجود فوت ہونے کے بعد رشتہ دار کورونا رجسٹر میں نام درج کرنے سے حکام کو روک رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے عہدیداروں پر اس سلسلہ میں کافی دباؤ ہے اور ہاسپٹلس کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کیسیس کی تعداد کو کم ظاہر کر رہا ہے ۔ بعض ڈاکٹرس نے اعتراف کیا کہ سی ٹی اسکان میں انفیکشن سے موت ہونے کے باوجود ہاسپٹل کی جانب سے ڈیتھ سرٹیفکٹ میں کورونا کا تذکرہ نہیں کیا جارہا ہے۔ بیشتر افراد ہاسپٹل سے رجوع ہونے کی بجائے گھروں پر علاج کر رہے ہیں۔ وہ کورونا ٹسٹ بھی کرانے سے گریز کر رہے ہیں اور فوت ہونے کی صورت میں عام افراد کی طرح آخری رسومات انجام دی جارہی ہے ۔ ایسے افراد سے دیگر افراد میں وائرس بآسانی پھیل سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ معائنوں سے گریز کے نتیجہ میں مریضوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلانے میں عہدیداروں کو دشواری ہورہی ہے۔ دوسری طرف عوام کو کورونا سے خوفزدہ ہونے سے بچانے کے لئے حکومت کی جانب سے کم تعداد کے انکشاف کا پتہ چلا ہے۔ گریٹر حیدرآباد اور اضلاع میں حالیہ عرصہ میں کیسیس کی تعداد میں دوبارہ اضافہ درج کیا گیا۔