کونسل کی 6 نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں زبردست سرگرمیاں

   

سکھیند ر ریڈی کی نامزدگی یقینی، ایک مسلمان کو نمائندگی دینے کاامکان
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل کی 6 نشستوں کی میعاد 3 جون کو ختم ہورہی ہے لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کورونا کی صوررتحال کو دیکھتے ہوئے کونسل کے نشستوں کے انتخابات کو ملتوی کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ کے بعد برسر اقتدار پارٹی میں قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں کہ چیف منسٹر سبکدوش ہونے والے 6 ارکان میں کس کو دوبارہ موقع دیں گے۔ کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی کے علاوہ نائب صدرنشین این ودیا ساگر ، کے سری ہری بی وینکٹیشورلو محمد فریدالدین اور اے للیتا کی میعاد 3 جون ختم ہوجائے گی ۔ ان میں سے ہر کوئی اس بات کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہیں دوبارہ کونسل کیلئے نامزد کیا جائے لیکن کونسل کی نشستوں کے لئے ٹی آر ایس میں دعویداروں کی کمی نہیں۔ الیکشن کے التواء کے باوجود دعویداروں نے اپنی پیروی تیز کردی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کونسلکے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی کو دوبارہ نامزد کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں جبکہ دیگر پانچ نشستوں نے گورنمنٹ چیف وہپ وینکٹیشورلو کو مزید ایک بار موقع دینے پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 6 نشستوں پر نئے قائدین کو نامزد کیا جائے گا ۔ گورنر کوٹہ کے تحت ایم سرینواس ریڈی کی میعاد 16 جون کو ختم ہورہی ہے۔ ٹی آر ایس میں 7 انشستوں کے لئے قائدین کی دوڑ دھوپ تیز ہوچکی ہے ۔ کے ٹی آر ، ہریش راؤ اور کویتا کی تائید حاصل کرنے کیلئے قائدین ان کی قیامگاہوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان اسبملی کے ذریعہ منتخب ہونے والے 6 ارکان میں ایک مسلم کو شامل کیا جائے گا ۔ تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ چیف منسٹر کریں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا کی صورتحال میں بہتری کے بعد الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کرے گا ۔ سکھیندر ریڈی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر نے انہیں کونسل کی رکنیت کے ساتھ کابینہ میں شمولیت کا وعدہ کیا ہے ۔