وجئے واڑہ۔ اے پی کے جسم فروشی کا کاروبار کرنے والوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ آندھراپردیش اسٹیٹ ایڈس کنٹرول سوسائٹی کے کلینکس جیسے آ ئی سی ٹی سی،پی پی ٹی سی ٹی،ایس ٹی آئی کلینکس کے ذریعہ ان کو اور ان کے بچوں کو کوویڈ کے ٹیکے دینے میں ترجیح دے ۔اس سلسلہ میں ومکتی اور آئی ایل ایف اے ٹی تنظیموں نے نائب وزیراعلی و ریاست کے وزیر صحت کے کرشنا سرینواس اور اے پی ایڈس کنٹرول سوسائٹی کی پروجیکٹ ڈائرکٹر اوشارانی سے نمائندگی کی۔بعد ازاں اپنے پریس ریلیز میں آئی ایل ایف اے ٹی کی ریاستی معاون کنوینر مس پسپاوتی اور دیگر نے کہا کہ کوویڈ 19کی وبا نے تجارتی طورپر جسم فروشی کاکاروبار کرنے والوں کے لئے کئی چیلنجس سامنے لائے ہیں۔وہ غیر محفوظ آبادی ہیں اور ہیلت کیر سرویسس تک رسائی میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے ۔اے پی اسٹیٹ ایڈس کنٹرول سوسائٹی کے اعداد وشمار کے مطابق ریاست میں اے پی ایس اے سی ایس کے پاس ریاست کے تقریبا 1.10لاکھ جسم فروشی کے کاروبار کرنے والوں کا اندراج ہے ۔جسم فروشی کاکاروبار کرنے والی کئی خواتین اور ان کے بچے مختلف جسم فروشی کے اڈوں پر گھانس سے بنے گھروں میں رہتے ہیں،اگر وہ کوویڈ سے متاثر ہوگئے تو یہ تیزی کے ساتھ پھیلے گا۔انہوں نے وزیر سے اپیل کی کہ وہ جسم فروشی کا کاروبار کرنے والوں کو ترجیح دے اور اے پی ایس اے سی ایس کلینکس کے ذریعہ ان کو کوویڈ کی ٹیکہ اندازی کے لئے ترجیح دے ۔