ویسٹ انڈیز کے دورہ کے بعد اہم فیصلہ متوقع
نئی دہلی۔ کیا ویرات کوہلی کو دوبارہ ٹسٹ کپتان بنایا جائے؟ یہ سوال ہندوستانی کرکٹ حلقوں میں پھر سے گونج رہا ہے ؟ہندوستانی ٹیم کو پھر پیچھے کیوں دیکھنا چاہیے؟ تو اس کا جواب ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی موجودہ حالت میں ہے۔ ڈبلیو ٹی سی فائنل میں ٹیم کی شکست کے بعد روہت شرما کی ٹسٹ کپتانی پر سوال اٹھ رہے ہیں؟ لیکن بات یہ ہے کہ روہت نہیں توکون؟ سفید گیند کی کرکٹ میں بہت سے متبادل کھلاڑی ہیں، لیکن سرخ گیند کی کرکٹ میں صرف کوہلی ہی نظرآتے ہیں۔ روہت شرما ٹسٹ فائنل کے ذریعے پہلی بارکپتانی کررہے تھے لیکن وہ اس محاذ پر بری طرح ناکام ہوئے۔ ٹیم کے انتخاب سے متعلق ان کے فیصلوں، بولنگ میں تبدیلیوں اور ان کی فیلڈینگ کی سجاوٹ سے متعلق تمام فیصلے پر سوالیہ نشان تھے۔ اب ایک خبر ہے کہ دورہ ویسٹ انڈیز ان کی ٹسٹ کپتانی کا آخری دور ہو سکتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد ٹیم کو دسمبر میں جنوبی افریقہ کے ساتھ اگلی ٹسٹ سیریز کھیلنی ہے۔ بی سی سی آئی اور ٹیم سلیکٹرز کے سامنے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر وہ روہت شرما کو ٹسٹ کپتانی سے ہٹاتے ہیں تو پھر کپتان کسے بنایا جائے گا؟ جواب میں ساری نظریں ویراٹ کوہلی پر مرکوز ہیں۔ تاہم، کے ایل راہول، جسپریت بمراہ، رشبھ پنت نے وقتاً فوقتاً ٹسٹ کپتانیکی ہے لیکن اس وقت یہ تینوں کافی عرصے سے ٹیم سے باہر ہیں۔ راہول اور بمراہ کے ساتھ فٹنس کا مسئلہ بھی برقرار ہے۔ اگرچہ پنت ایک اچھا فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ واپسی کے بعد کیسے کھیلتے ہیں؟ رہانے کی واپسی کے ساتھ ٹسٹ کپتان کا راستہ بھی کھلا ہے، جن کی کپتانی میں ہندوستان نے 6 ٹسٹ کھیلے اور تمام جیتے ہیں لیکن ان کے پاس اب بھی ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کا چیلنج ہے۔ اس سے اوپر کی عمر بھی 35 سال ہے۔ اب جبکہ اس وقت سرخ گیند میں کوئی بہتر کھلاڑی نہیں ہے جیسا کہ سفید گیند کی کرکٹ میں نظر آتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بی سی سی آئی دوبارہ کوہلی کو ٹیم کی کمان دینے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ روی شاستری سے لے کر انگلینڈ کے ایان مورگن تک ان کی وکالت کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے شائقین بھی اس سے متفق ہیں۔ ویراٹ کوہلی کے اعداد و شمار بھی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ماہرین سے لے کر مداحوں تک سب کی رائے میں ویراٹ کوہلی دوبارہ ٹسٹ کپتان بننے کے اہل ہیں، تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کردار میں ان کی سابق کارکردگی ہے۔ ویراٹ کوہلی کی ٹسٹ کپتانی میں ہندوستان نے 58.82 فیصد میچ جیتے ہیں۔ اس میں ہوم گراؤنڈ پر 24 ٹسٹ اور گھر سے باہر 15 ٹسٹ جیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کوہلی کی کپتانی میں 16 ٹسٹ میچ ہار چکا ہے۔اعداد وشمار اور دیگر باقی سب ٹھیک ہے، کیا کوہلی تیار ہوں گے؟ واضح طور پر ریکارڈ خراب نہیں ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیاکوہلی ٹسٹ میں ٹیم کی ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے دوبارہ تیار ہوں گے؟ کیا کنگ کوہلی اس عہدے پر بیٹھنے کو راضی ہوں گے جو انہوں نے پچھلے سال چھوڑا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ایسا نہیں لگتا کہ ٹیم کی مشکل بڑھے گی لیکن اگر جواب نفی میں ہے تو ہندوستانی ٹیم کے سامنے پیدا ہونے والا سوال اور بھی گہرا ہو جائے گا۔