اکثر عہدیداران اور قائدین غیر حاضر، عوامی مسائل سے عدم دلچسپی کا اظہار
کوہیر۔ کوہیر منڈل پرجا پریشد کا سہ ماہی اجلاس کوہیر مستقر میں دفتر منڈل پرجا پریشد پر صدر نشین بی مادھوی کی زیر قیادت منعقد ہوا جس میں مختلف محکموں کے بیشترعہدیدار غیر حاضر رہے اور عوامی نمائندوں میں بھی اجلاس کے تعلق سے عدم دلچسپی نظر آئی۔ اجلاس کا وقت صبح 11 بجے دن مقرر تھا لیکن اجلاس 12 بجے دن شروع کیا گیا اور صرف ایک گھنٹہ 15 منٹ کے اندر ختم ہوگیا۔ اہم محکمہ جات جیسے محکمہ برقی محکمہ آبرسانی اور آبکاری محکمہ جنگلات اور محکمہ آر اینڈ بی کے علاوہ دیگر آفیسرس غیر حاضر رہے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ اجلاس برائے نام منعقد کیا گیا ہے تاکہ ضابطہ کی تکمیل ہو۔ عوامی مسائل کے لئے کسی عہدیدار میں دلچسپی نظر نہیں آرہی تھی۔ اجلاس میں محمد شاکر علی نائب صدر نشین نے محکمہ ریوینو عہدیداروں سے استفسار کیا کہ می سیوا سنٹروں میں آدھار کی فوٹو کشی کے لئے درخواست گذاروں سے تقریباً 300 روپئے وصول کررہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے 100 روپئے مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی تحصیلدار بسواراج سے اس جانب توجہ دینے کی خواہش کی اور انہوں نے کہا کہ وقف اراضیات پر کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی رعیتو بندھو اور بیمہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ پڑوسی منڈل رائیکوٹ میں وقف اراضیات پر کاشت کرنے والے کسانوں کو دیا جارہا ہے اس طرح کوہیر منڈل میں دینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں ملنا پاٹل ایم پی ٹی سی نے کہا کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے پانی سپلائی کیلئے لاپرواہی کی جارہی ہے۔ کئی مرتبہ پائپوں کے لکیج ہونے کی جانب توجہ دلائی گئی۔ اکثر محکمہ آبرسانی کے عہدیدار غیر حاضر ہونے سے عوام کو پانی کیلئے شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مشن بھگیرتا کے کاموں میں مسلسل لاپرواہی برتی جارہی ہے۔ جگہ جگہ نلوں کے کنکشن کھلے چھوڑ دیئے گئے ہیں جبکہ کروڑہا روپئے حکومت خرچ کرچکی ہے۔ باوجود اس کے ابھی کئی گاؤں میں پانی نہیں آرہا ہے اس کے خلاف موجودہ اراکین اور سرپنچوں نے زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر اراکین منڈل پرجا پریشد اور سرپنچس موجود تھے۔