کوہیر کی سڑکیں انتہائی خستہ، راستہ چلنا دشوار

   


ٹیکس ادائیگی کے باوجود بنیادی سہولتوں سے بھی عوام محروم، ارباب مجاز کی توجہ ضروری

کوہیر: کوہیر منڈل مستقر میجر گرام پنچایت اور موضع منیارپلی پنچایت کے علاوہ دیگر مواضعات میں موسم برسات کے آغاز میں ہوئی بارش سے کئی سڑکیں پوری خستہ ہال ہوگئی ہیں۔ جگہ جگہ گڑھے پڑگئے ہیں۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے عوام بالخصوص بڑے ضعیف لوگوں اور بچوں و خواتین کو راستہ چلنا مشکل ترین ہوگیا ہے۔ ریاستی تلنگانہ حکومت کی جانب سے پلے پرگی پروگرام کے ذریعہ سڑکوں کی مرمت سائیڈ ڈرین، برقی، بجلی کے علاوہ دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سرکاری عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کو ایک سال قبل ہدایت دی گئی تھی۔ لیکن پلے پرگتی پروگرام مواضعات میں برائے نام ہی منعقد کیا گیا جہاں پر صرف فوٹو سیشن کے علاوہ کچھ کام نہیں کیا گیا جس کی زندہ مثال کوہیر سرکیں اور ڈرین سسٹم ہے۔ کوہیر مستقر کی اہم سڑک پولیس اسٹیشن راستہ تا درگاہ حضرت مولانا معز الدین کی سڑک ہے جہاں پر رات دن عوام کا گزرنا نہایت ضروری ہوتا ہے اس سڑک پر دفتر گرام پنچایت گورنمنٹ ہاسپٹل، جونیر کالج اور درگاہ شریف جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں عقدت مند زیارت کے لیے آتے ہیں ان کو شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دوسری سڑک ریلوے گیٹ تا بیدر بیس تا باہر واری جانے وا لی سڑک بھی تباہ کن حالت میں آگئی ہے جس پر پیدل چلنا دشوار ہے اور قدیم بس اسٹانڈ پر واقع توپچی واڑہ کو سڑک پر بارش کا پانی جمع ہونے سے عوام کو راستہ چلنا مشکل ترین ہوگیا۔ کوہیر تحصیل آفس پر اراضیات کی رجسٹریشن کرنے کے لیے آنے والے عوام اور کسانوں نے بتایا کہ زمینات کی رجسٹری کے لیے ہر حال میں آنا پڑتا ہے لیکن سڑک انتہائی خراب حالت میں ہے۔ اس کی فوری تعمیر و مرمت کرنے کے لیے متعلقہ عہدیداروں اور اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے مطالبہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ حکومتوں کو ہر چیز کا ٹیکس ادا کررہے ہیں تو حکومت کا اولین فریضہ ہے کہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کریں۔ سڑک، پانی، بجلی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس طرح موضع مینارپلی میں بھی اہم راستوں پر گڑھے پڑجانے سے پانی جمعہ وگیا ہے۔ مقامی عوام کی جانب سے توجہ دلائی جانے پر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ موضع کی عوام نے بتایا کہ کوہیر منڈل ڈیولپمنٹ آرمور سے مداخلت کرتے ہوئے سڑکوں کو درست کروائیں اور عوام کو راحت پہنچائیں۔