کوہ مولا علی میں اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں کیخلاف کارروائی کا انتباہ

   

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا دورہ، 3 اہم اراضیات کا معائنہ، قابضین کیخلاف ایف آئی آر کی ہدایت
حیدرآباد 6 فروری (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج ریونیو اور پولیس عہدیداروں کے ہمراہ کوہ مولا علی اور اُس کے اطراف قبرستان مہ لقا بائی اور حضرت میر محمودؒ کی اوقافی اراضیات کا معائنہ کیا اور وہاں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی۔ محمد سلیم نے کوہ مولا علی میں ریمپ سے متصل اراضی پر جاری تعمیری کاموں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری کریمنل کیس درج کرتے ہوئے تعمیری کام کو روک دیں۔ کوہ مولا علی کے تحت مختلف سروے نمبرات میں تقریباً 232 ایکر اراضی موجود ہے۔ اراضی کے بیشتر حصہ پر ناجائز قبضے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ متولی نے غیرقانونی طور پر وقف اراضی کو بورڈ کی منظوری کے بغیر لیز پر دے دیا ہے۔ محمد سلیم نے متولی کے خلاف کارروائی اور لیز کی منسوخی کے اقدامات کا اعلان کیا۔ سروے نمبر 422 میں غیر مجاز قابضین پہاڑوں کو توڑنے اور کھدائی کے کام میں مصروف تھے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کام کو روک دیا اور پولیس اور ریونیو حکام کو مشنری ضبط کرنے کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے کہاکہ جس اراضی کا رجسٹریشن کیا گیا ہے اُسے منسوخ کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ غیر مجاز قابضین کو نوٹسیس کی اجرائی کے علاوہ کریمنل کیسیس درج کئے جائیں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مولا علی میں واقع مقبرہ مہ لقا بائی چندا، قبرستان اور عیدگاہ کا دورہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہز ایکسلنسی نظام ٹرسٹ کی جانب سے اِس تاریخی مقبرہ کی نگرانی کی جاتی ہے لیکن ٹرسٹ کی جانب سے عدم توجہی کے نتیجہ میں بیشتر علاقہ پر غیر مجاز قابضین نے قبضہ کرلیا ہے۔ اراضی پر گھوڑے باندھے گئے ہیں۔ محمد سلیم نے وقف اراضی بالخصوص قبرستان پر گھوڑے باندھنے پر برہمی کا اظہار کیا اور پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ مقامی افراد نے عیدگاہ اور قبرستان کے لئے اراضی الاٹ کرنے کی نمائندگی کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ کثیر مسلم آبادی والے علاقہ میں عیدگاہ اور قبرستان کی سخت ضرورت ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مولا علی میں واقع 200 ایکر اوقافی اراضی کا معائنہ کیا جو درگاہ میر محمودؒ کے تحت ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ بہت جلد ضلع کلکٹر، پولیس اور ریونیو عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ تینوں اہم اوقافی جائیدادوں کو غیر مجاز قبضوں سے بچایا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ جہاں بھی کھلی اراضی ہے اُس کے تحفظ کے لئے فوری قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ مقامی افراد کو تیقن دیا گیا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخاستگی کے بعد عیدگاہ اور قبرستان کے لئے اراضی الاٹ کرنے پر غور کیا جائے گا۔ مولا علی میں بیشتر اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے ہیں اور سابق میں وقف بورڈ نے اِس جانب توجہ نہیں کی۔ اُنھوں نے کہاکہ وقف اراضی تاقیامت وقف ہوتی ہے اور اِسے فروخت کرنے کا کسی کو اختیار نہیں۔ متولی کی جانب سے غیر مجاز لیز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مقامی افراد نے وقف بورڈ سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہاکہ سینکڑوں ایکر اراضی کا تحفظ کرتے ہوئے اِسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اِس دورہ میں رکن وقف بورڈ نثار حسین حیدر آغا، چیف ایکزیکٹیو آفیسر محمد قاسم کے علاوہ ریونیو اور پولیس کے عہدیدار شریک تھے۔