کپتان کمنز کی اننگز دونوں ٹیموں کے درمیان اصل فرق ثابت ہوئی

   

لندن ۔ 12 سال کا کیریئر، 400 سے زائد انٹرنیشنل وکٹیں اور 1500 کے قریب رنز، یہ پیٹ کمنز کی پہچان ہے لیکن انہوں نے منگل کی رات ڈیپ تھرڈ مین کی طرف جو شاٹ کھیلا، جس پر انہیں مس فیلڈ سے چار رنز ملے… یہ چار رنز ان کے کیریئر کے سب سے قیمتی رنز رہے ۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ تقریباً 12 سال قبل جب انہوں نے اپنے ٹسٹ کیریئرکا آغاز کیا تھا تب بھی آسٹریلیا نے چوتھی اننگز میں 250 سے زائد رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ اس میچ میں جیتنے والا رن بھی پیٹ کمنز کے بیٹ سے آیا تھا۔ اب پانچ ٹسٹ کی ایشز سیریز میں پیٹ کمنز نے پہلا میچ جیت کرآسٹریلیا کو1-0 کی اہم برتری دلائی ہے۔پیٹ کمنز نے اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی کپتانی کے علاوہ بیٹنگ اور بولنگ بھی شاندار رہی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز 393 رنز 8 وکٹوں پر ڈیکلیئرکر دی تھی۔ انگلش ٹیم نے اس فیصلے کے ساتھ کینگروزکو چیلنج کیا۔ پہلی اننگز میں عثمان خواجہ کی سنچری آسٹریلیا کے لیے اہم تھی۔ اس کے علاوہ ٹریوڈ ہیڈ اور ایلکس کیری کی نصف سنچریاں بھی اہم تھیں۔ لیکن پیٹ کمنز کی 38 رنز کی شراکت کو بھی سمجھنا ہوگا۔ لوورآرڈر میں ان کی شراکت کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم کو پہلی اننگز میں آسٹریلیا پر صرف 7 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔ وہ پہلی اننگز میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے لیکن دوسری اننگز میں انہوں نے انگلینڈ کو پہلا جھٹکا دیا۔ پہلے انہوں نے بین ڈکٹ کی وکٹ لی، پھر اولی پوپ کو آوٹ کیا۔ انگلینڈ کے ٹاپ آرڈرکو دھکا دینے کے بعد انگلش کپتان بین اسٹوکس کی وکٹ بھی پیٹ کمنز کے کھاتے میں آگئی۔ انہوں نے بین اسٹوکس کو43 رنز پر آؤٹ کیا۔ یہاں اسٹوکس سے بڑی کپتانی کی اننگز کی توقع تھی لیکن کمنز نے ان کے ارادوں کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد پیٹ کمنز نے لوور آرڈر میں جیمز اینڈرسن کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔اس ٹسٹ میچ میں عثمان خواجہ نے شاندار بیٹنگ کی۔ دوسری اننگز میں بھی انہوں نے شاندار جدوجہد کا مظاہرہ کیا۔ صرف خواجہ نے آسٹریلوی ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچایا لیکن ابھی بہت کام باقی تھا۔ خواجہ کے آؤٹ ہوئے تو اسکور بورڈ پر209 رنز تھے اور ابھی مزید 72 رنز درکار ہیں۔ میچ انگلینڈ کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے وقت میں پیٹ کمنزکریز پر آئے۔ اس کے بعد جب ایلکس کیری بھی227 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ساری طاقت پیٹ کمنز پر آگئی۔ ابھی فتح 54 رنز دور تھی۔ جبکہ انگلینڈ کو صرف 2 وکٹیں حاصل کرنا تھیں۔ ناتھن لیون پیٹ کمنزکا ساتھ دینے آئے۔ کمنز نے کمزور گیندوں پر جوکھم لے کر بڑے شاٹس بھی لیے۔ ان کی 44 رنز کی اننگز میں 28 رنز باؤنڈری سے آئے۔ اسٹرائیک کو گھمانے اور ہدف کی طرف محتاط قدم اٹھائے۔ یہ سب پیٹ کمنز کی اننگز میں دیکھنے کو ملا۔ یہی وجہ ہے کہ عثمان خواجہ کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔