پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں حکمت عملی ودیگر امور پر تبادلہ خیال متوقع
نئی دہلی: پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلائے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتیں متحرک نظر آ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں حکم عملی تیار کرنے کے مقصد سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل جماعتوں کے فلور لیڈران کا اجلاس صدر کانگریس کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے 18 ستمبر سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جبکہ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس 5 ستمبر کو طلب کیا جارہاہے۔ اپوزیشن قائدین کے لئے کھرگے کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے ایک چونکا دینے والا فیصلہ لیتے ہوئے 31 اگست (جمعرات) کو پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کی اطلاع دی ہے۔ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک طلب کیا گیا ہے جس میں 5 نشستیں ہوں گی۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے بعد پورے ملک میں بحث شروع ہو گئی اور اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعت نے ایک دوسرے پر حملے تیز کردئے ہیں۔ تاہم اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ پارلیمنٹ کے اس خصوصی اجلاس میں کس معاملے پر بات ہوگی۔دریں اثنا، مرکزی حکومت نے ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سابق صدر رام ناتھ کووند کو اس کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ، کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری، سابق کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا نام کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا، جس پر اپوزیشن کے کئی قائدین نے ناراضگی ظاہر کی۔ اس کے بعد کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اس کمیٹی کا حصہ بننے سے بھی انکار کر دیا۔