Saturday , December 5 2020

کیا مسلمان کچھ نہیں کرسکتے ؟!

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
شہریت سے متعلق گذشتہ 3 ماہ سے ہندوستان میں جاری احتجاج کے دوران حیدرآباد کے شہریوں کے آدھار کارڈ کے جعلی دستاویزات سے حاصل کرنے کے شبہ میں حکام نے ثبوت طلب کیے ہیں ۔ اس طرح مسلمانوں کی شہریت کو نشانہ بنانے کا عمل تیز ہوگیا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر اچھے اور برے ، ڈراؤنے اور شعور بیداری کے پوسٹس دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانش کے مطابق ہزار دلائل پیش کررہا ہے اور ترکیبیں بھی بتا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو ان تمام دلائل میں الجھنے اور سی اے اے ، این آر سی یا این پی آر کے تعلق سے خوف پیدا کرلینے سے زیادہ صرف ایک دلیل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم کتنے لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کررہے ہیں ۔ افسوس ان لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلمان ہوتے ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی فرقہ پرستوں کی سازشوں پر گھبرا جاتے ہیں یا ان کے لیڈروں کی باتوں میں آکر ادھر اُدھر دوڑ پڑتے ہیں ، کیا مسلمانوں نے چاہے وہ شہر حیدرآباد کے مسلمان ہوں تلنگانہ کے مسلمان ہوں یا سارے ہندوستان کے مسلمان ، اس بات پر کبھی غور کیا ہے کہ 1992 کے بعد سے ملک کے حالات کس قدر مخالف اسلام اور مخالف مسلمان بنائے جارہے ہیں ۔ امریکہ پر حملے کے بعد یعنی 9/11 کے بعد تمام تر منفی پروپگنڈے کرنے اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے والوں نے ہندوستان کی فرقہ پرست تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے حوصلے بلند کیے ، نتیجہ میں گجرات مسلم کش فسادات ہوئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ مسلمانوں نے بھی خوف زدہ ہونے کا مظاہرہ کیا جس طرح اب کررہے ہیں ۔ این آر سی ، سی اے اے کے خلاف اس قدر خوف زدہ ہونے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ سامنے والے کو اپنی سازشوں میں کامیابی ملتی نظر آنے لگی ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں سازشیں ہورہی ہیں اور یہ نئی بات بھی نہیں ہے ۔ ظہور اسلام کے بعد سے دشمن طاقتوں نے ہر موقع پر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی مگر کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا ۔ اس وقت بھی پوری بنی نوع انسانی اور خاص طور پر عالم اسلام جس کرب سے گذر رہا ہے اس کا تجربہ اب خود ہندوستانی مسلمانوں سے ہو کر گذر رہا ہے ۔ نریندر مودی یا ان کے سرپرستوں نے جو کچھ پالیسیاں بنائی ہیں اس کی خرابیاں یہ ہیں کہ ہندوستان کے ہندوؤں کو اس ملک کے مسلم شہریوں کے خلاف اکسانے کی کوششیں ہورہی ہے ۔ یہ تو مسلمانوں کا ہی حسن سلوک ہے کہ ہندوستانی ہندوؤں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے ورنہ مودی اور ان کے سازشی ٹولے اپنے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے اندھا دھند کارروائیاں کرتے ، لیکن جو ہندو اب بھی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ کب تک ان کے حق میں آگے آئیں گے ۔ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے خود مسلمانوں نے کوئی تیاری کی ہے یا نہیں یہ غور طلب بات ہے ۔ مودی نے جو نفرت کی چیتا جلائی ہے اس میں ہوسکتا ہے کہ وہ خود جل جائیں لیکن اس طرح کے واقعہ کی حقیقت بن جانے سے پہلے مسلمانوں کو اپنے طور پر کوئی تیاری کرنی ہوگی یا نہیں ۔ مسلمانوں نے صرف سڑکوں پر معمولی احتجاج کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرلینے کا خیال پیدا کیا ہے تو پھر انہیں اس سے زیادہ خوف زدہ کردیا جائے گا اور مسلمانوں کی زندگی اپنے اندر ہی اندر ریت کی دیوار کی طرح گرتی جائے گی اور پھر مسلمانوں کو یہ ریت کی زندگی تباہ ہونے کے لیے سی اے اے یا این آر سی جیسے آندھی یا طوفان کے تکلف کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ ہندوستان میں اب تک فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو اپنا ووٹ بینک بنایا تھا لیکن اب بی جے پی کے دور میں کئی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا نام لینے سے بھی گریز کررہی ہیں کیوں کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں ہمدردی دکھائی تو ان کا ہندو ووٹ بینک متاثر ہوگا ۔ اس کی تازہ مثال دہلی کے اسمبلی انتخابات کی ہے جہاں عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال نے اپنی ساری انتخابی مہم میں مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی وہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کے مقام شاہین باغ گئے ۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے احتجاج کا حوالہ دیتے تو ان کو ملنے والے ہندو ووٹ کم ہوں گے گویا سیاسی پارٹیوں نے آج ہندوؤں کو مسلمانوں کے یکسر مخالف کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ہندووں کی اکثریت مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے لیکن سیاسی پارٹیوں نے محض اپنے ووٹ بینک کے لیے مسلمانوں سے دوری کا مظاہرہ کرنا شروع کیا ہے ۔ کانگریس کو ہی لیجئے یا پھر آپ کی اپنی ریاست تلنگانہ کو ہی لیجئے ٹی ار ایس نے تلنگانہ تحریک کے وقت اور اقتدار کے بعد مسلمانوں کے حق میں بلند بانگ وعدے کیے تھے مگر مرکز میں جیسے ہی بی جے پی کی حکومت آئی 2014 کے بعد ادھر تلنگانہ کے چیف منسٹر کا بھی مسلمانوں کے تعلق سے موقف تبدیل ہوگیا ۔ 12 فیصد تحفظات تو بھول جائیے اب مسلمانوں کو این آر سی ، این پی آر سے بچانے کے لیے بھی وہ تیار نہیں ہیں ۔ ہندوستان میں کل تک مسلمانوں کے ساتھ فراخدلی کا مظاہرہ کرنے یا لفظ فراخدلی کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا تھا لیکن اب تو کسی بھی لیڈر کی تقریر اور مسلمانوں کے حق میں فراخدلی کی بات ہی نہیں آئی اب تو قوم دشمن ، غداری ، حب الوطنی ، قوم پرستی اور نفرت کے مختلف ہتھکنڈے ہی سامنے آرہے ہیں ۔ سیکولرازم اور فراخدلی کی بات کرنے والا قوم دشمن قرار دے کر غداری کا لیبل لگایا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی فضا میں اب اکثریت کے مفادات سر آنکھوں پر اور اقلیت کے مفادات پیروں تلے ہوتے جارہے ہیں ۔ اکثریت اور اقلیت جیسے الفاظ جمہوری اقدار کے کوکھ سے جنم لیتے ہیں جن کا اب غلط طریقہ سے سیاسی استعمال ہورہا ہے ۔ مسلمانوں کے حق میں فراخدلی کی بات کرنے والی سیاسی پارٹیوں کو اب نقلی سیکولرازم اختیار کرنے یا نقلی ہندوتوا پر چلنے کے الزامات ہیں ۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لیے کوئی بھی آگے نہیں آئے گا ۔ لہذا مسلمانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا کریں ، کیا انہیں فرقہ پرستوں کی غلامی کے لیے تیار کریں یا فرقہ پرستوں کے ناپاک منصوبوں کو کچل کر اپنی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے کمر کس لینے کی ترغیب دی جائے ۔ یہ غور کرنے والی بات ہے ۔ مگر ہم مسلمانوں کی خرابی یہ ہے کہ آخر تک تباہی کا انتظار کرتے ہیں ۔ ہندوؤں نے گذشتہ 200 سال سے خود کو ایک فراخدل معاشرہ میں تبدیل کرلیا ہے لیکن مسلمانوں کے اندر یہ بات اب تک گھر نہیں کرپائی ۔ نتیجہ میں آج مسلمان ابنائے وطن سے دور کردئیے جارہے ہیں ۔ جب حالات اس نہج پر فروغ پا رہے ہیں تو مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حیدرآباد کے مسلمانوں بلکہ تلنگانہ کے مسلمانوں خاص کر سارے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے موجودہ حالات خود احتسابی کی دعوت دیتے ہیں ۔ اب مسلمانوں کو یہ طئنے کرنا ہوگا کہ آیا انہیں سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کی شکل میں آنے والے خطرات سے تیار رہنا ہے یا ڈیٹنشن سنٹرس جیسے ڈراونے عوامل تک کا انتظار کرنا چاہئے اگر مسلمان فرقہ پرستوں اور ان کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں کمر کس لینے کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلا قدم اسراف سے اجتناب ہے ۔ پھر مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسراف سے بے جا اخراجات من مانی شوق سے پرہیز کرتے ہوئے اپنی رقم میں بچت کا تہیہ کرلے تو وہ مالیاتی امور میں طاقتور بن جائے گا ۔ مہنگے شادی خانوں کو ترک کردینا ہوگا ۔ مسلمانوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ آنے والے 3 ماہ یعنی اسلامی مہینوں رجب ، شعبان اور رمضان کے دوران اپنی طرز زندگی کھانے پینے ، رہنے سہنے میں نمایاں تبدیلی لائیں گے ۔ شادی خانوں ، ہوٹلوں ، پان کے ڈبوں سے دور رہیں گے ۔ بینکوں سے تمام رقومات نکال کر اپنے پاس محفوظ کرلیں گے ۔ رمضان میں فضول خریدی ، حلیم کے دیگوں پر ٹوٹ پڑنے سے گریز کریں گے ۔ اگر ہر مسلمان اپنے آپ میں یہ قسم کھالے کہ وہ اپنے موبائل فون کا بل اب 3 ماہ تک ری چارج نہیں کرے گا تو پھر ایک پیاکیج اگر 600 روپئے کا ہے تو ہر مسلمان کے فون کا بل 600 روپئے بچ جائیں گے اور اس کا راست اثر ان کمپنیوں کو ہوگا جو اس راست برسر اقتدار پارٹی کے حامی یا فنڈ فراہم کرنے والے ہیں اس طری اگر مسلمانوں نے ہر معاملہ میں پٹرول کی خریدی سے لے کر روزمرہ زندگی کے اخراجات کو کم کرنے کا مظاہرہ کیا تو 30 کروڑ مسلمانوں کے ہاتھوں سے ان مسلم دشمن اداروں تک پہونچنے والی مسلمانوں کی محنت کی رقم 3 ماہ کے لیے رک جائے گی تو ان بڑی کمپنیوں کا مالیاتی گراف دھڑام سے نیچے گرے گا ۔ جب مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے بینکوں سے تمام رقم نکال لی تو تمام بینک خالی ہوں گے اور ملک پر حکمرانی کی حمایت کرنے والے فرقہ پرستوں کے پاس پیسہ کم ہونے لگے گا ۔ مسلمانوں کو یہ غور کرنا ضروری ہے کہ اگر وہ اپنی بچت کے ذریعہ مالداروں ، تاجروں اور صنعتکاروں کے ہوش اڑانے میں کامیاب ہوں تو پھر ان کے ہندوستانی ہونے کے وجود کا احساس پیدا ہوجائے گا ۔ شرط اتنی ہے کہ ہم 3 ماہ کے لیے قسم کھا کر خالص اللہ کی خوشنودی کے لیے فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے موبائل بل ، موٹر سیکل کار کے پٹرول ، ٹی وی کیبل کا بل ، لائٹ کا بل ، نل کا بل ، ہوٹلوں میں کھانوں کا بل ، شادی خانوں کا بل ، پان کی دکانوں کا بل ، الغرض ہر ایک اپنے طور پر بچت کا مظاہرہ کریں تو دیکھئے آئندہ 3 ماہ کے بعد آپ کے سامنے بڑی کمپنیوں کے سہ ماہی حساب کتاب میں زبردست گراوٹ آئے گی ۔ کیا یقین کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان خود کو بچت کے لیے تیار کریں گے ۔ وہ اپنی محنت کی کمائی کو بچت کے ذریعہ بڑے سیٹھوں ، مسلم دشمن اداروں کی تجوری میں جانے سے روک پائیں گے ۔ اگر ایسا کرتے ہیں تو پھر یقین رکھئیے جیت مسلمانوں کی ہوگی ۔ ورنہ کون سنتا ہے فقدان درویش ۔ ذرا سوچیے 30 کروڑ مسلمانوں کو مل کر روزانہ اگر 10 روپئے تا 100 روپئے کی فی کس بچت ہوجائے تو آپ کا پیسہ آپ کے پاس ہی رہے گا اور آپ کا پیسہ سیٹھوں ، صنعتکاروں کی تجوریاں بھرنا بند کردے گا تو ان سیٹھوں اور مسلم دشمنوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے ۔ بہت بڑا جھٹکہ نہ سہی صرف 3 ماہ کے عمل سے ایک معمولی ضرب دی جاسکتی ہے اس کے بعد یہ عمل ہمیشہ کے لیے دہرایا جائے تو ایک دن مسلمان بادشاہ ہوں گے ۔
kbaig92@gmail.com

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT