نئی دہلی، 29 اگست (سیاست ڈاٹ کام) مشرقی راجستھان، سوراشٹر اور کچھ میں آئندہ 12 گھنٹے کے دوران تیز سے بہت تیز اور انڈمان-نکوبار جزائر، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تری پورہ، مغربی بنگال میں گنگا کے زمینی علاقے ، اڑیسہ، مغربی راجستھان، گجرات، ساحلی کرناٹک، کیرالا اور ماہے میں مختلف مقامات پر تیز بارش کے آثار ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران مغربی بنگال، سکم، اڑیسہ، جھارکھنڈ اور بہار میں مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کے آثار ہیں۔ مغربی وسطی اور جنوب مغربی بحیرہ عرب میں 45-55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے ۔ اس لئے ماہی گیروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں نہ جائیں ۔جنوب مغربی مانسون، مشرقی راجستھان، مغربی مدھیہ پردیش، گجرات اور کیرالہ میں سرگرم رہا ہے جبکہ مغربی بنگال کے پہاڑی علاقے ، سکم، جھارکھنڈ، بہار، اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، جموں کشمیر، مراٹھواڑہ، آندھرا پردیش ، تمل ناڈو اور شمالی اندرونی کرناٹک میں مانسون کمزور رہا۔ دریں اثنا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی ٹیموں کا متاثر ریاستوں کا دورہ اب بھی جاری ہے ۔مہاراشٹر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے مرکز سے دو ٹیم بدھ کو پہنچ چکی ہے ۔ وزیر اعلی کے دفتر کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ سکریٹری ڈاکٹر وی تھروپگج کی قیادت میں سات ارکان پر مشتمل ٹیم سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے آ رہی ہے ۔ ریاستی حکومت نے تباہ کن سیلاب سے ہوئے نقصان کے لئے مرکزی حکومت کو 6813 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس ٹیم میں محکمہ زراعت کے آر پی سنگھ، محکمہ ایکسپنڈیچر کے چترنجن داس، توانائی شعبہ کے اوم کشور، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی وے ڈپارٹمنٹ کے سنجے جیسوال، دیہی ترقیات سیکشن کے وی پی راج ویدي اور محکمہ آب کے ملند پان پاٹل شامل ہیں۔ یہ ٹیم سیلاب متاثرہ علاقوں کا چار دن کا دورہ کریں گی۔مسٹر سرکاریا نے بتایا کہ اب تک بارہ دراروں کو بھرا جا چکا ہے
اور باقی درار کو پاٹنے کا کام جاری ہے ۔ آنے والے چند دنوں میں ان درار وں کو بھر دیا جائے گا۔ انہوں نے بھی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کیلئے وزیر اعلی راحت فنڈ میں دی ہے ۔ قدرتی آفات نے ریاست میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے ۔ ریاستی حکومت اور مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے دریائے ستلج میں آئی درار کو بھرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ ان کے محکمہ کے افسران بھی اس کام میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔مسٹر سرکاریا نے بتایا کہ فلور سب ڈویژن کے میووال اور ماؤ صاحب گاؤںمیں دریائے ستلج کے پشتوں میں آئی نو بڑی درار کو بھر دیا گیا ہے ۔ ابھی لدھیانہ ضلع میں بھولیوال گاؤں میں پڑے 168 فٹ چوڑے شگاف کو پاٹنے کا کام گزشتہ ہفتہ کو مکمل کر لیا گیا تھا۔ ضلع موگا کے کشن پورہ گاؤں میں پڑی دو درار کو بھی بھر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ متاثر ضلع جالندھر کے جانیاں چہل گاؤں میں ندی کے پشتے میں پڑی پانچ سو فٹ چوڑے شگاف اور سنگووال میں پڑی دو سو فٹ چوڑی درار کو پاٹنے میں بڑی مشقت کرنی پڑ رہی ہے ۔ضلع روپڑ کے بھاؤوال گاؤں میں دریائے ستلج دریا کے پشتے میں پچاس فٹ، خیرآباد گاؤں میں ڈیڑھ سو فٹ چوڑا شگاف اور سرتاپور گاؤں میں ساٹھ فٹ چوڑے شگاف کو پاٹا جا رہا ہے ۔