ہنمنت راؤ کا مطالبہ، مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے جھوٹی ہمدردی کا الزام
حیدرآباد۔/21 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ میں این آر سی اور قومی شہریت قانون پر عمل آوری نہ کرنے کا اعلان کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر اقتدار کیلئے مسلمانوں اور دلتوں کے ووٹ حاصل کرتے ہیں لیکن انہیں ان طبقات میں پیدا شدہ تشویش کی کوئی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت این آر سی اور شہریت قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے تاکہ سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کیا جائے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ قانون میں مسلمانوں کو چھوڑ کردیگر طبقات کو شامل کیا گیا ہے جو دستور کی روح کے خلاف ہے۔ این آر سی اور شہریت قانون کے نتیجہ میں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوچکا ہے اور ملک بھر میں احتجاج جاری رہے۔ اُتر پردیش میں تقریباً 10 ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔ پنجاب، مغربی بنگال، کیرالا اور دیگر ریاستوں نے این آر سی پر عمل آوری سے انکار کیا ہے۔ بہار میں بی جے پی کی حلیف ہونے کے باوجود نتیش کمار حکومت نے این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا۔ کے سی آر کو بھی اسی طرح کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں میں اعتماد بحال کرنا چاہیئے۔ پارلیمنٹ میں مخالفت کافی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں سے ہمدردی کا ثبوت کے سی آر کو دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجہ گٹہ میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا مجسمہ نصب کرنے کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنادیا اور 5 لاکھ کے صرفہ سے تیار کئے گئے مجسمہ کو ضبط کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ کے سی آر نے شہر میں امبیڈکر کی یادگار تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن چار برسوں میں اس وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن خود اس عہدہ پر فائز ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اسد اویسی اور کے سی آر کو مسلمانوں کے ووٹ چاہیئے لیکن تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان نہیں کیا جارہا ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مسلمانوں میں اعتماد کی بحالی کیلئے اعلان ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر امبیڈکر کا مجسمہ فوری واپس کیا جانا چاہیئے ورنہ کے سی آر کا شمار مخالف مسلم اور مخالف دلت چیف منسٹر کی حیثیت سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی سیکولرازم کے اُصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے اور این آر سی اور شہریت قانون کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔