نارائن پیٹ میں بی آر ایس کا دکشا دیوس پروگرام ، سابق اراکین اسمبلی کا خطاب
نارائن پیٹ 30/نومبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ تحریک کے رہنما کے سی آر کی انتھک کو ششوں اور بھوک ہڑتال (دکشا دیوس) کے سبب تلنگانہ حاصل ہوا ۔ان خیالا ت کا اظہار ضلعی صدر بی آر یس و سابق رکن اسمبلی نارائن پیٹ نے بی آریس کی جانب سے نارائن پیٹ ضلع مستقر پر سنگارام چوراہا پر منعقدہ جلسہ عام سے اپنے خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ عظیم قائد کے سی آر کی جانب سے 29/نومبر 2009کو حصول تلنگانہ کیلئے بھوک ہڑتال شروع کی گئی تھی جو علحدہ تلنگانہ تحریک میں روح پھونکنے کے متبادل تھا۔اس وقت آندھرائی طاقتیں اپنے اثر ورسوخ سے ناکام کرنے کوشش کررہے تھے۔ کے سی آر کی دوداندیشانہ کوششوں اور تلنگانہ عوام کی جدوجہد نے 29نومبر کو یاد گاردن بنادیا ۔انھوں نے کہا کہ بی آر یس حکومت نے کے سی آر کی قیادت میں ملک میں کم وقت میں اپنی معیشت کو مضبوط کیا۔ بلکہ یہاں کے عوام کو منفرد اسکیمات کے ذریعہ ہر طبقہ کو خوشحالی و امن کا گہوارہ بنائے رکھا۔ اور تلنگانہ حکومت نے سماج کے ہر طبقہ کی خوشحالی و ترقی کیلئے ملک میں منفرد اسکیمات کے ذریعہ مثال قائم کی۔ اس پروگرام میں ضلع انچارج مسٹر کوٹی ریڈی، سابق اراکین اسمبلی اور ضلع صدر مسٹر یس راجندر ریڈی، مکھتل سابق رکن اسمبلی رام موہن ریڈی و دیگر پارٹی قائدین نے شرکت کی۔ قبل ازیں ستیہ نارائن چوراہا سے موٹر سیکل ریالی کا آغاز عمل میں آیا یہ ریالی شہر کے مختلف شاہراؤں سے ہوتے ہوئے ضلع مستقر پر ضلعی پارٹی آفس میدان میں دیکشادیوس جلسہ عام میں تبدیل ہوئی۔ اس موقع پر سابق اراکین اسمبلی اور ضلعی پارٹی صدور نے کہا کہ29 نومبر 2009 تلنگانہ کے تمام لوگوں کے لیے ایک بہت ہی یاد گار دن ہے۔اوریہ ایک تاریخی دن تھا جب کے سی آر نے حصول تلنگانہ کیلئے آغاز کیا تھا۔ 14 سال طویل تحریک کو عملی جامہ پہنایا۔ 2004 کے انتخابات کے دوران اس وقت کی ٹی آر ایس اور موجودہ بی آر ایس پارٹی نے اتحاد کیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو وہ تلنگانہ ریاست بنائیں گے اور اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے دھوکہ دیا، 2004 سے لے کر سینکڑوں طلباء اور کئی ملازمین کو خودکشی کرنی پڑی۔ اس پروگرام میں ضلعی عوامی نمائندوں، سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔