فارم ہاؤز میں قریبی ساتھیوں سے مشاورت
حیدرآباد ۔7۔ڈسمبر (سیاست نیوز) عہدہ اور اقتدار کی اہمیت کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جاتا ہے۔ بی آر ایس کے سربراہ کے چندرا شیکھر راؤ کیلئے آج کا دن انتہائی صبر آزما اور کٹھن رہا۔ گزشتہ 10 برسوں تک خود کو ناقابل چیلنج لیڈر کے طور پر شناخت بنانے والے کے سی آر کو تلنگانہ عوام نے اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار عطا کیا۔ کے سی آر کو یقین تھا کہ سادہ اکثریت کے ساتھ وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے لیکن بی آر ایس کو محض 39 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے آج اپنے فارم ہاؤز میں حلف برداری تقریب کا مشاہدہ کیا۔ ٹی وی چیانلس اور سوشیل میڈیا میں حلف برداری تقریب لائیو پیش کی گئی ۔ الیکشن میں ناکامی کے بعد سے کے سی آر کافی دکھی ہیں اور انہوں نے پرگتی بھون چھوڑتے ہوئے سیکوریٹی کے بغیر ہی تنہا کار میں فارم ہاؤز جانے کو ترجیح دی تھی۔ قریبی ذرائع کے مطابق کے سی آر شکست کی وجوہات کے بارے میں مختلف سیاسی مبصرین سے بات چیت کر رہے ہیں۔ کے سی آر اور ان کے چند قریبی افراد نے لال بہادر اسٹیڈیم سے حلف برداری تقریب کے ٹیلی کاسٹ کا مشاہدہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کی حیثیت سے کے سی آر نے ریونت ریڈی کو مبارکباد پیش نہیں کی ۔ کے ٹی آر نے بھی ابھی تک مبارکبادی کا ٹوئیٹ نہیں کیا جبکہ سابق وزیر ہریش راؤ نے ریونت ریڈی کو مبارکباد پیش کی۔