خودکشی کے واقعات کے لیے چیف منسٹر ذمہ دار، ہڑتال کے خاتمہ کے لیے گورنر سے مداخلت کی اپیل
حیدرآباد۔ 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے کے سی آر پر آر ٹی سی کو خانگیانے کی سازش کا الزام عائد کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ عوامی اداروں کو خانگیانے کے خلاف کے سی آر نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن آج وہ چیف منسٹر کی حیثیت سے آر ٹی سی کو خانگیانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال 15 دن مکمل کرچکی ہے لیکن حکومت کو ہڑتال کی یکسوئی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر آمرانہ اور ڈکٹیٹرشپ کے رویہ کے سبب ملازمین کو خودکشی پر مجبور کررہے ہیں۔ آر ٹی سی کے نقصانات کے لیے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ ڈیزل پر موجود 27 فیصد ویاٹ کو حکومت کم کرنے سے گریز کیوں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ملازمین کی خودکشی کے باوجود چیف منسٹر کا رویہ غیر انسانی برقرار ہے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے بات چیت کی ہدایت کے باوجود حکومت نے ملازمین کی یونین کو بات چیت کے لیے مدعو نہیں کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ وہ آخر کتنے ملازمین کی قربانی چاہتے ہیں۔ چیف منسٹر کو دو ملازمین کی خودکشی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ ہنمنت رائو نے گورنر ٹی سوندرا راجن کی ستائش کی جنہوں نے آر ٹی سی ہڑتال کے خاتمہ کے لیے مساعی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ستائش کی مستحق ہیں۔ سابق گورنر نے عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں ایسی مثال نہیں ملتی جب گورنر نے وزراء سے فون پر بات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہڑتال کے سلسلہ میں گورنر سوندرا راجن حکومت کو سخت ہدایات جاری کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو آر ٹی سی ہڑتال کے مسئلہ پر سخت گیر قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف عوام پالیسیوں کے نتیجہ میں کے سی آر کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے۔