کے ٹی آر نے کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا

   

تلنگانہ کے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے والی کمپنی کو بنگلور منتقل کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا

حیدرآباد ۔ 4 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فاکس کن کمپنی کو بنگلور منگل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اگر تلنگانہ کے عوام کانگریس پر بھروسہ کریں گے تو شہر حیدرآباد کے علاوہ تلنگانہ کی دیگر کمپنیاں بنگلور اور کرناٹک منتقل ہوجائیں گے اور بی آر ایس حکومت نے نوجوانوں کو جو روزگار فراہم کیا ہے اس سے وہ محروم ہوجائیں گے۔ عوام بالخصوص نوجوان اس سازش کا سنجیدگی سے نوٹ لیں۔ پھر ریاست میں بی آر ایس کو ووٹ دیں یا کانگریس کووٹ دیں اس کا فیصلہ کریں۔ حیدرآباد کے جل وہار میں منعقدہ وکلاء کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ڈی کے شیوکمار کا مکتوب بتایا۔ انہوں نے کہا کہ فاکس کن ایپل فونس سے متعلق مختلف پارٹس تیار کرتی ہے اس کمپنی نے چین میں 15 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا ہے۔ ہم گذشتہ چار سال سے کمپنی سے مشاورت کرتے ہوئے اس کو تلنگانہ میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے راضی کراچکے ہیں۔ اس کمپنی کے نمائندوں سے امریکہ، چین اور تائیوان کے اجلاسوں میں ملاقاتیں کی گئی جس کے بعد 2022ء میں فاکس کن کمپنی کے صدرنشین نے حیدرآباد پہنچ کر چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کی اور فیکٹری قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ایک لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے سے اتفاق کیا۔ ضلع رنگاریڈی کلکٹریٹ کے سامنے کونگارا کلاں میں 200 ایکر اراضی پر تعمیراتی کاموںکا آغاز بھی کردیا۔ دو منزلہ عمارت مکمل ہوگئی۔ آئندہ سال اپریل، مئی میں کمپنی قائم ہوجائے گی۔ تاہم کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر نے 25 اکٹوبر کو کمپنی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے حیدرآباد سے کمپنی کو بنگولر منتقل کرنے پر زور دیا۔ کمپنی کو بتایا گیا کہ بہت جلد تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت قائم ہوگی۔ دہلی سے تلنگانہ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کمپنی کو بنگلور منتقل کرنے کیلئے راضی کرایا جائے گا۔ تلنگانہ میں قائم ہونے والی کانگریس حکومت اس معاملہ میں مکمل تعاون و اشتراک کرے گی۔
کے ٹی آر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غور کریں۔ تلنگانہ میں دوبارہ بی آر ایس حکومت قائم نہیں ہوئی اور کے سی آر کے چیف منسٹر نہ بننے پر کیا ہوگا۔ حالیہ دنوں میں دہلی کے بعد بنگلور تلنگانہ کے کانگریس قائدین کیلئے دوسرا ہیڈکوارٹر بن گیا ہے۔ سارا پیسہ بنگلور سے حیدرآباد منتقل کیا جارہا ہے۔ کانگریس پارٹی غلطی سے بھی اقتدار میں آتی ہے تو تلنگانہ کے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے والی کمپنی بنگلور منتقل ہوجائے گی۔ن