وزارت میں برقرار رہنے یا شامل ہونے کیلئے ٹی آر ایس قائدین کی مہم : ریونت ریڈی
حیدرآباد : تلنگانہ کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اپنے فرزند کے ٹی آر کو کبھی چیف منسٹر نہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کی غلطی کی گئی تو چیف منسٹر کے سی آر کے خاندان میں جھگڑے شروع ہوجائیں گے اوریہ جھگڑے مہابھارت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ ریونت ریڈی نے آج میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ کے معاملے میں کے ٹی آر اپنے والد کے سی آر کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ سال 2019ء کے بعد اسمبلی حلقہ کوڑنگل کیلئے ایک بھی ترقیاتی کام منظور نہیں ہوا ہے جبکہ کے ٹی آر نے اس حلقہ اسمبلی کو گود لینے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک اس حلقہ کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کے چیف منسٹرس کرن کمار ریڈی اور کے روشیا سے جو ترقیاتی کام منظور کروائے تھے ابھی تک وہی ترقیاتی کام جاری ہے ۔ صرف ان کا نام اور کلر تبدیل کرتے ہوئے ترقیاتی کام کرے کی جھوٹی تشہیر کی جارہی ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے ٹی آر کی کارکردگی سے چیف منسٹر کے سی آر مطمئن نہیں ہے ۔ کابینہ کے ردوبدل اور توسیع میں دوبارہ کے ٹی آر کو وزیر بنانے کا امکان نہیں ہے ۔ اس کا علم ہوتے ہی کے ٹی آر اپنے حامیوں کے ذریعہ انہیں چیف منسٹر بنانے کی مہم شروع کرائی ہے جو بھی وزراء اور ارکان اسمبلی کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں وہ کابینہ میں برقرار یا شمولیت کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں بلیک میل کررہے ہیں ۔ پہلے تو کے سی آر ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کو چیف منسٹر نہیں بنائیں گے ، بنانے کی صورت میں کویتا ، ہریش راؤ اور سنتوش سب سے پہلے بغاوت کردیں گے ۔ شرمیلا کی جانب سے تلنگانہ میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے پر غور کرنے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ہر کوئی تلنگانہ کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔