حیدرآباد۔ 4 اکٹوبر (سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ اور پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے کے ٹی آر سے سوال کیا کہ وہ کیا صورت لے کر حضورنگر میں عوام سے ووٹ کی اپیل کررہے ہیں۔ حضورنگر میں انتخابی مہم میں مصروف پونم پربھاکر نے آج مادھو رائو گوڑیم، سنگارم اور دیگر علاقوں میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ گزشتہ دو عام انتخابات میں عوام سے کیے گئے وعدوں میں ایک کی بھی تکمیل میں ناکام رہنے والے کے ٹی آر کس صورت سے حضورنگر میں عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کو ووٹ مانگنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں کیوں کہ حکومت نے گزشتہ دو مواقع پر انتخابی منشور میں جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کے ٹی راما رائو کو ووٹ مانگنے سے پہلے عوام کو بتانا ہوگا کہ ان کی حکومت نے حضورنگر کی ترقی کے لیے کیا اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف حضورنگر بلکہ ریاست بھر میں عوام کو مایوس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں کو تین ایکر اراضی، ڈبل بیڈروم مکانات، مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تحفظات، کے جی تا پی جی مفت تعلیم، ہر گھر کو ایک ملازمت، ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنا، گھر گھر پینے کے پانی کی سربراہی، بیروزگاروں کو ماہانہ 3016 روپئے وظیفہ، کسانوں کے قرض کی معافی، رائیتو بیمہ اور رائیتو بندھو جیسے وعدوں کی تکمیل میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو تین لاکھ کروڑ کے قرض میں ڈبودیا گیا ہے اور ایسی حکومت کو عوام ووٹ کیوں دیں؟ اس کا فیصلہ ضمنی انتخابات میں ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیمات میں بے قاعدگیاں اور کمیشن عام ہوچکا ہے۔ پونم پربھاکر نے دعوی کیا کہ پدماوتی ریڈی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گی۔