گاندھی بھون میں کانگریس کے اقلیتی قائدین کا مسلسل دوسرے دن احتجاج

   

مانک راؤ ٹھاکرے نے انصاف کا تیقن دیا، گن پارک پر گدوال کے کانگریس قائدین نے دھرنا دیا
حیدرآباد ۔16۔اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی میں ٹکٹ سے محروم قائدین کی جانب سے آج بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔ گاندھی بھون اور گن پارک پر پارٹی کے ناراض قائدین نے ٹکٹوں کے الاٹمنٹ میں حقیقی ورکرس کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کرتے ہوئے دھرنا منظم کیا ۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات بہادر پورہ ، چندرائن گٹہ ، یاقوت پورہ اور ملک پیٹ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین نے آج مسلسل دوسرے دن گاندھی بھون میں احتجاج کیا۔ وہ پرانے شہر کے حلقہ جات میں غیر اقلیتی امیدواروں کے اعلان پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کل رات بھر گاندھی بھون کے احاطہ میں دھرنا جاری رہا اور آج صبح دیگر علاقوں کے اقلیتی کارکن دھرنے میں شامل ہوگئے۔ احتجاجیوں نے اپنے شرٹ اتار کر نیم برہنہ احتجاج کیا اور پارٹی ہائی کمان سے امیدواروں کی تبدیلی کی مانگ کی ۔ اقلیتی قائدین کا کہنا ہے کہ پرانے شہرکے اسمبلی حلقہ جات میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد اکثریتی طبقہ سے زیادہ ہے اور ان حلقہ جات میں ہمیشہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا جاتا رہا ۔ اس مرتبہ کانگریس پارٹی نے بہادر پورہ ، چندرائن گٹہ اور یاقوت پورہ سے اکثریتی طبقہ کے قائدین کو پارٹی ٹکٹ دیا جبکہ ملک پیٹ سے ایسے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا گیا جن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ پرانے شہر کے اقلیتی قائدین کے احتجاج کے دوران جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے نے اقلیتی قائدین کو بات چیت کے لئے مدعو کیا۔ صدر حیدرآباد کانگریس کمیٹی سمیر ولی اللہ ، پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل اور دیگر قائدین نے مانک راؤ ٹھاکرے کو اقلیتی قائدین کی برہمی سے واقف کرایا۔ ٹھاکرے نے تیقن دیا کہ اس سلسلہ میں ہائی کمان سے بات چیت کرتے ہوئے اقلیتی امیدواروں سے انصاف کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے اہم نشستوں پر مسلم قائدین کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مانک راؤ ٹھاکرے کے تیقن کے بعد بعض قائدین نے اپنا احتجاج ختم کردیا جبکہ ملک پیٹ اور چارمینار سے تعلق رکھنے والے کارکن احتجاج کرتے رہے۔ اسی دوران گدوال اسمبلی حلقہ کی نشست کے مسئلہ پر پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری وجئے کمار کی قیادت میں گن پارک پر دھرنا منظم کیا گیا ۔ وجئے کمار نے الزام عائد کیا کہ سریتا یادو سے 10 کروڑ روپئے اور 5 ایکر اراضی حاصل کرتے ہوئے کانگریس نے ٹکٹ دیا ہے۔ انہوں نے صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی پر 65 نشستوں کو 600 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کا الزام عائد کیا۔ ٹکٹ سے محروم قائدین کو منانے کیلئے سینئر قائدین پر مشتمل چار رکنی کمیٹی متحرک ہوچکی ہے جس میں کے جانا ریڈی ، مانک راؤ ٹھاکرے ، میناکشی نٹراجن