گجرات کے جوناگڑھ میں مسجد کیخلاف انتظامیہ کی نوٹس پر ہنگامہ

,

   

تشدد میں ایک ہلاک‘ 4 پولیس عہدیدارزخمی‘ 174 زیر حراست ‘صورتحال کشیدہ

احمد آباد : گجرات کے جوناگڑھ میونسپل کارپوریشن نے 14 جون کو مجوادی گیٹ کے قریب واقع جبن شاہ مسجد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون پانچ دن متعلقہ کاغذات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس مسئلہ پر جمعہ کی رات پر تشدد واقعات پیش آئے جس میں بزرگ شہری کی موت ہو گئی اور کم از کم چار پولیس عہدیدارزخمی ہو گئے ۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب ایک ہجوم نے مبینہ طور پر پولیس عہدیداروں پر حملہ کر دیا ۔ تشدد کے سلسلے میں اب تک 174 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ہفتہ کی صبح پولیس نے بتایا کہ سنگباری میں ایک شہری کی موت ہوئی ہے جس کی موت 62 سال تھی۔ نوٹس 16 جون کو چسپاں کی گئی تھی جو کے خلاف ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ پولیس نے ہجوم کو راضی کرنے کی کوشش کی اورتقریباً 45 منٹ تک بات چیت جاری رہی۔ اسی دوران پولیس پر سنگباری کی گئی۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شل برسائے۔ اس دوران پی ایس آئی کنجل مارو کے ساتھ ڈی وائی ایس پی جوناگڑھ کے علاوہ دیگر پولیس عملہ بھی زخمی ہوا۔ پولیس نے بتا یا کہ چھ پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں اور رات بھر تلاشی مہم جاری رہی۔ اب تک 174 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جے ایم سی کی طرف سے 14 جون کو جاری کردہ نوٹس میں حضرت کھجنی شاہ پیر اور حضرت جبن شاہ پیر کی درگاہ کا بیان ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مذہبی تجاوزات نہ ہوں اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی سڑکوں پر مذہبی مقامات کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹایا جائے گا۔ اس سلسلے میں معاون ثبوت؍ ملکیت کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا۔ اگر مناسب ثبوت فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو گجرات صوبائی میونسپل کارپوریشنز کے سیکشن 210 اور 266 کے تحت سڑک سے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹا دیا جائے گا اور اس کا خرچہ آپ خود برداشت کریں گے۔ اس عمل کے دوران کسی جانی نقصان یا حادثے کی صورت میں، ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی۔ جے ایم سی کے سینئر ٹاؤن پلانر بپن کمار گامیت نے بتا یا کہ کل آٹھ مذہبی ڈھانچوں کو 14 جون کو عوامی سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات کے نوٹس بھیجے گئے تھے اور نوٹس ان ڈھانچوں کے احاطے پر 16 جون کو چسپاں کیے گئے تھے۔ ان میں تین مندر اور پانچ درگاہیں شامل تھیں اور یہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں انہدامی مہم کے باقاعدہ طریقہ کار کا حصہ تھا۔ جن آٹھ ڈھانچوںکو نوٹس جاری کیے گئے تھے، ان میں سے کسی نے بھی دستاویزی ثبوت کے ساتھ جواب نہیں دیا ۔ آئی جی پی نے کہا کہ غیر قانونی اجتماع، قتل، اقدام قتل، آتش زنی، خطرناک ہتھیاروں سے شدید چوٹ پہنچانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے سلسلہ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

گجرات پولیس نے مسلمانوں کو سرعام کوڑے مارے
درگاہ کے انہدام کی نوٹس کے بعد پرتشدد احتجاج کا شاخسانہ
احمد آباد : سوشل میڈیا پر گجرات کا ایک انتہائی دل دہلا دینے والا ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہورہا ہے جس میں دکھایاگیا ہے کہ مردوں کے ایک گروپ کی دو افراد کوڑو ں سے بے رحمی کے ساتھ پٹائی کررہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق محکمہ پولیس سے ہے۔ یہ ویڈیو جوناگڑھ علاقہ کا بتایاجارہا ہے جہاں تشدد کے حالیہ واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی۔ صحافی سچن دوبے کی جانب سے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی گئی 23 سیکنڈ کی ویڈیو میں رات کیوقت درگاہ کیسامنے چند مردوں کو ایک قطار میں کھڑے دکھایا گیا ہے جبکہ دو افراد کو بیلٹ سے ان مردوں کی پیٹھ کے نچلے حصہ پر بے تحاشہ مارتے ہوئے دکھایا گیاہے۔ صحافی سچن دوبے نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں افراد پولیس اہلکار تھے جو تشدد میں ملوث افراد کو مار رہے تھے۔کوڑوں کے ذریعہ بے رحمی کے ساتھ مارے جانے کے دوران یہ لوگ چیخ رہے ہیں اور رونے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں۔ سچن دوبے نے اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرتیہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ’’تصویر گجرات کے جوناگڑھ کی ہے۔جہاں درگاہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے نوٹس مانگنے پر تشدد پھوٹ پڑا۔جس میں مشتعل لوگوں نے پولیس چوکی پر پتھراؤ کیا۔جس کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کو پکڑکرمارنا شروع کر دیا۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ آیا اس ویڈیو کا احتجاج والے واقعہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ویڈیو میں مار کھانے والوں کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے۔