گرلز اردو اسکول بھینسہ میں اساتذہ کی 7 جائیدادیں مخلوعہ

   

نصابی کتابوں کی بھی تاحال عدم تقسیم، صفاء بیت المال کے وفد کی کلکٹر اور ڈی ای او سے نمائندگی

بھینسہ ۔ بھینسہ شہر کے صفا بیت المال کا ایک وفد مقامی صدر حافظ منیر الدین کی نگرانی میں ضلع کلکٹر اور ضلعی ایجوکیشن آفیسر ریویندر ریڈی سے علیحدہ علیحدہ انکے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے بھینسہ گورنمنٹ گرلز اردو میڈیم ہائی اسکول میں7 اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عدم بھرتی ، کتابوں کی عدم تقسیم کے علاوہ ودیا والینٹرس کے عدم تقررات اور ڈی ایس سی کے بیاک لاگ نشستوں کو عام زمرے میں شمولیت سے متعلق واقف کرواتے ہوئے تحریری نمائندگی کی اور ریاستی وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے علاوہ تلنگانہ حکومت سے مذکورہ مسائل کی فورا یکسوئی کا مطالبہ کیا اس موقع پر شیخ عرفان حرکیاتی خادم صفا بیت المال نے میڈیا سے مخاطب ہوکر کہا کہ تلنگانہ حکومت جو سیکولر اور اردو دوست حکومت ہونے کا دعوٰی کرتی ہے اردو (دوسری زبان) کے خاتمے کیلئے پْر جوش طریقے سے کوشاں ہے کیونکہ جاریہ تعلیمی سال اسکولوں کی کشادگی عمل میں آکر تقریباً دو ماہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن صحیح طور پر اردو میڈیم کے طلباء و طالبات میں درسی کتابیں فراہم نہیں کی گئی جو باعث تشویش ہے اور ودیا والینٹرس کا تقرر نہیں کیا گیا جس سے ہزاروں طلبا و طالبات تعلیم ترک کرتے ہوئے تعلیم سے دوری اختیار کررہے ہیں جو تشویش کا باعث ہے اور نسل نو تاریکی کی نذر ہو رہی ہے صفا بیت المال شاخ بھینسہ کے مذکورہ ذمہ داروں نے تمام فلاحی ، رفاہی ، سماجی اور دیگر تنظیموں سے گزارش کی ہے کہ حکومت سے نمائندگی اور مطالبات کے موقع پر صفا کا تعاون کرتے ہوئے ساتھ پیش پیش رہے اس موقع پر مفتی عرفان سہیل اور صفا کے دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔نوٹ : میل پر ڈی ای او سے نمائندگی کرتے ہوئے تصویر بھی موجود ہے۔