گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ

   

طلبہ ، نوجوان و سرکاری ملازمین حکومت سے ناراض، چنا ریڈی اور راملو نائک کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: تلنگانہ میں گریجویٹ زمرہ کی دو ایم ایل سی نشستوں کیلئے کانگریس امیدواروں ڈاکٹر جی چنا ریڈی اور راملو نائک نے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ انتخابات میں کانگریس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مسائل کی یکسوئی کو یقینی بنائے۔ حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل گریجویٹ نشست کے امیدوار ڈاکٹر جی چنا ریڈی اور نلگنڈہ ، کھمم اور ورنگل اضلاع کی نشست کے امیدوار راملو نائک نے مشترکہ پریس کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کو عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ مرکز اور ریاست کی حکومتوں نے طلبہ اور نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کرلیا ہے ۔ چنا ریڈی اور راملو نائک نے امیدوار بنائے جانے پر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے اظہار تشکر کیا۔ دونوں نے اپنی کامیابی کا یقین ظاہر کیا اور کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی بھرپور تائید حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جیون ریڈی کو گریجویٹ زمرہ سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست میں گریجویٹ زمرہ کی تین نشستیں ہیں اور تمام تینوں پر کانگریس کا قبضہ رہے گا۔ چنا ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے انتخابات سے قبل روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں۔ پی آر سی رپورٹ کی پیشکشی کے باوجود حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ریاست میں ایک لاکھ 91,000 سرکاری جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ 25,000 سے زائد ٹیچرس کی جائیدادیں کئی برسوں سے مخلوعہ ہیں۔ یونیورسٹیز میں وائس چانسلرس کے علاوہ 65 فیصد ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی جائیدادوں پر بھرتی نہیں کی گئی۔ جیون ریڈی نے ٹیچرس اور سرکاری ملازمین سے کانگریس کی تائید کی اپیل کی۔ راملو نائک نے کہا کہ مرکز اور ریاست نے ایس ٹی طبقات کو دھوکہ دیا ہے۔ کریم نگر ، ورنگل اور کھمم میں تین فیصد ایس ٹی طبقات کے رائے دہندے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس پارٹی دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کرے گی۔