گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں پر کانگریس میں اختلاف

   


ریونت ریڈی نے کودنڈا رام کی تائید کا مشورہ دیا، کئی سینئر قائدین امیدواری کی دوڑ میں

حیدرآباد۔ تلنگانہ کانگریس قائدین میں گریجویٹ زمرہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے میں ہائی کمان کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ جنرل سکریٹری انچارج مانکیم ٹیگور نے سینئر قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے طاقتور امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کا فیصلہ کیا اور امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دینے کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے اگرچہ ابھی تک رپورٹ پیش نہیں کی لیکن پارٹی قائدین میں اختلافات منظر عام پر آچکے ہیں۔ کھمم، ورنگل اور نلگنڈہ کے علاوہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل دو نشستوں کیلئے کئی دعویدار ہیں۔ کانگریس کیلئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دینا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پارٹی قائدین دو گروپس میں منقسم ہوچکے ہیں۔ اپریل میں متوقع ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات میں بعض قائدین تنہا مقابلہ کے حق میں ہیں جبکہ دوسرا گروپ مخالف ٹی آر ایس اور مخالف بی جے پی طاقتوں کو متحد کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کی سفارش کررہا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سینئر قائدین دونوں حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑا کرنے کے حق میں ہیں۔ سابق وزیر جی چنا ریڈی اور سابق ارکان اسمبلی ومشی چند ریڈی، سمپت کمار، سری سیلم گوڑ اور رام موہن ریڈی حیدرآباد گریجویٹ نشست کے اہم دعویداروں میں ہیں۔ ورنگل کیلئے سابق ایم ایل سی راملو نائیک اور ڈی شراون نے مضبوط دعویداری پیش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورکنگ پریسیڈنٹ اور رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے ورنگل کی نشست کیلئے تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ ایم کودنڈا رام کی تائید کی تجویز پیش کی ہے تاکہ مخالف ٹی آر ایس ووٹ منقسم ہونے سے بچ جائیں۔ کودنڈا رام نے اس حلقہ کیلئے اپنی انتخابی مہم کا پہلے ہی آغاز کردیا ہے۔ ریونت ریڈی اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے کانگریس نے ضمنی انتخابات میں مسلسل شکست کا سامنا کیا ہے۔ گریجویٹ زمرہ کی نشستوں کیلئے متحدہ مقابلہ کیلئے پارٹی کارکنوں میں نیا جوش و جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا اور صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے مانکیم ٹیگور کو بعض ناموں کی سفارش کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس ہائی کمان پارٹی میں اختلاف کے دوران امیدواروں کے ناموں کا کس طرح انتخاب کر پائے گا۔ قائدین کی نظریں 7 رکنی کمیٹی پر ہیں جو توقع ہے کہ آئندہ ہفتہ ہائی کمان کو اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔