گریٹر حیدرآبادمیںآر ٹی سی سرویس کی بحالی کی تیاریاں

   

جاریہ ماہ کے اواخر یا اکٹوبر کے اوائل میں فیصلہ،محدود بسوں سے خدمات کے آغاز کا امکان
حیدرآباد۔گریٹر حیدرآباد کے حدود میں آر ٹی سی کی خدمات کی جلد بحالی کیلئے حکومت تیاری کررہی ہے۔ توقع ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر یا اکٹوبر کے پہلے ہفتہ میں شہر میں بس سرویس کی بحالی کا آغاز ہوگا۔ میٹرو ریل سرویس کے آغاز کو دو ہفتے مکمل ہوچکے ہیں اور عوام کی جانب سے آر ٹی سی سرویس بحال کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ آر ٹی سی بس سرویس کے آغاز کی صورت میں غریب اور متوسط طبقات کو کم خرچ میں طویل سفر کی سہولت حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ میٹرو ٹرین کا کرایہ غریبوں کیلئے ناقابل ادائیگی ہے۔ بس سرویس کے آغاز کی صورت میں شہر کے کئی اندرونی اور دور دراز علاقوں تک عوام کی حمل و نقل ممکن ہوگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آر ٹی کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں بس سرویس کی بحالی کے طریقہ کار کی سفارش کی گئی۔ توقع ہے کہ بہت جلد وزیر ٹرانسپورٹ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔ ممبئی، بنگلور اور چینائی میں 50 فیصد سٹی بس سرویس کا آغاز ہوچکا ہے۔ آندھرا پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے بھی وجئے واڑہ میں سٹی بس سرویس بحال کردی ہے۔ کوویڈ 19 سے قبل تلنگانہ آر ٹی سی 1400روٹس پر 3000 بسیں چلاتی رہی اور روزانہ 30 لاکھ مسافرین کو فائدہ پہنچا۔ 22 مارچ کو لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے سٹی بس سرویسس کو معطل کردیا گیا ہے۔ جون سے اضلاع میں بس سرویس کا آغاز عمل میں آیا لیکن حکومت نے کورونا کے خوف سے حیدرآباد میں بسوں کی بحالی کی اجازت نہیں دی۔ دیگر علاقوں کے مقابلہ شہر میں کورونا کے کیسس زیادہ ہیں جس کے نتیجہ میں حکومت فیصلہ کرنے میں پس و پیش کررہی ہے۔ آر ٹی سی ذرائع کے مطابق کارپوریشن صد فیصد سٹی بس سرویس کی بحالی کیلئے تیار ہے تاہم امکان ہے کہ حکومت محدود پیمانے پر سٹی بس سرویس کی بحالی کی اجازت دے۔