مئیر نے کوئی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا ، سرکاری و خانگی ہاسپٹلس میں 300 متاثرین زیر علاج
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میں کورونا کا وائرس تیزی سے پھیلنے کے باوجود جی ایچ ایم سی کی جانب سے کوئی بھی احتیاطی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ مئیر حیدرآباد جی وجیہ لکشمی یا کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار کی جانب سے ابھی تک کوئی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا گیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں کورونا کیسیس کی تعداد 500 کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ ایک ہفتہ قبل 9 علاقوں کو ہاٹ اسپاٹس کی طرز پر نشاندہی کی گئی ۔ کنٹونمنٹ زونس قائم کرنے پر غور کیا گیا ۔ مگر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا کے متاثرین کورونا کے کٹس نہ ملنے پر پریشان ہیں ۔ مائیکرو کنٹونمنٹ زونس کے مسئلہ پر بھی کوئی واضح اعلان نہیں ہوا ہے ۔ جی ایچ ایم سی اور محکمہ صحت کے درمیان کوئی تال میل نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین اور عوام میں خوف و دہشت پائی جاتی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں کورونا جیٹ اسپیڈ سے فروغ پارہا ہے ۔ خانگی و سرکاری ہاسپٹلس میں تقریبا 3000 کورونا متاثرین زیر علاج ہیں ۔ دن بہ دن کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ کیسیس میں اضافہ کے بعد ایک طرف عوام کورونا ٹسٹ اور دوسری طرف کورونا ٹیکہ کے لیے دوڑ دھوپ کررہے ہیں ۔ ہاسپٹلس میں عوام کا ہجوم اچانک بڑھ گیا ہے ۔ جس سے ماحول پوری طرح تبدیل ہوگیا ہے ۔ کون متاثر ہے اور کون غیر متاثر ہے اس کی پہچان کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ جس سے عوام میں خوف و دہشت پیدا ہوگئی ہے ۔