نظام آباد ۔ نظام آباد شہر کے آٹو نگر میں نئے برج کے نزد جمعرات کی سہ پہر سے لاپتہ ہونے والے معصوم لڑکے کی نعش D53 کنال میں دستیاب ہونے سے سنسنی پھیل گئی ۔ تفصیلات کے مطابق آٹو نگر میں واقع مسجد عائشہ سے متصل مکان میں کرایہ سے رہائش پذیر محمد یونس جو پیشہ سے لاری ڈرائیور ہے ان کا 7 سالہ لڑکا محمد فیض کل سہ پہر 4 بجے سے اچانک لاپتہ ہونے پر اسے آس پاس کے علاقوں میں تلاش کیا گیا اور VIٹائون پولیس اسٹیشن میں شکایت کی گئی تھی جس پر پولیس کی جانب سے لڑکے کی تلاش کی گئی لیکن لڑکے کا کوئی پتہ نہ چلنے پر اس کے والدین کو صبح آنے کی اطلاع دی گئی تھی اور سوشل میڈیاکے ذریعہ لڑکے کی گمشدگی کی اطلاع کو عام کیا گیا لیکن آج صبح محمد فیض کی نعش D53 کنال بڑی نہر میں تیرتی ہوئی پائی گئی ۔ اور مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دینے پر نعش کو باہر نکالا گیا اس وقت لڑکے کے دونوں ہاتھ کالی ڈوری سے بندھے ہوئے تھے اور گلے میں ڈوپٹہ بھی ڈالا ہوا تھاجس کی وجہ سے کئی شک و شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں اور اس کے والد اور دیگر افراد نے اماوس ہونے کی وجہ سے لڑکے کی بلی چڑھانے کی شک و شبہات ظاہر کررہے ہیں ۔ مقتول فیض کے والد محمد یونس کے مطابق محمد فیض گھر سے نکلتے وقت دوسرے کپڑوں میں تھا لیکن نئے کپڑے میں اس کی نعش پائی گئی ہے جس سے جادو ٹونا کرنا والے عناصر اس معصوم لڑکے کی بلی چڑھانے کا شبہ کیا جارہا ہے پولیس پنچنامہ کرتے ہوئے جمعہ کے دن مقتول لڑکے کی نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ضلع سرکاری دواخانہ منتقل کیا ۔اس واقعہ کے بعد اس علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور موضوع بحث بن گیا۔