اقتدار میں آنے پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا تیقن
کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے ذات پات کی مردم شماری کو لے کر پھر آواز اٹھاتے ہوئے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر مرکز میں ان کی پارٹی کی حکومت آتی ہے تو وہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔ بہار کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ملک کے غریب عوام کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کیوں ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم ملک کا ایکسرے کرے گا اور ہر ایک کو صحیح ریزرویشن، حقوق اور حصہ داری فراہم کرے گا۔ اس سے نہ صرف غریبوں کے لیے صحیح پالیسیاں اور منصوبے بنانے میں مدد ملے گی بلکہ غریبوں کو اس سے آزاد کر کے ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ وہ تعلیم، کمائی اور دوائی کی جدوجہد کے ساتھ قومی دھارے سے بھی جڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔راہول گاندھی نے کہا کہ اس لیے اٹھو، جاگو اور اپنی آواز بلند کرو، ذات پر مبنی مردم شماری آپ کا حق ہے اور یہ آپ کو مشکلات کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے گا۔ انہوں نے کہا گنتی ہمارا نعرہ ہے کیونکہ گنتی انصاف کا پہلا قدم ہے۔راہول گاندھی نے ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ غریب کون ہیں؟ کتنے ہیں اور کس حال میں ہیں؟ کیا ان سب کا شمار ضروری نہیں؟ بہار میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 88 فیصد غریب آبادی دلت، قبائلی، پسماندہ اور اقلیتی برادریوں سے آتی ہے۔کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ بہار کے اعداد و شمار ملک کی حقیقی تصویر کی صرف ایک چھوٹی سی جھلک ہیں، ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ ملک کی غریب آبادی کس حال میں رہ رہی ہے۔ اس لیے ہم دو تاریخی قدم اٹھانے جا رہے ہیں ذات پات کی گنتی، اقتصادی نقشہ بندی، جس کی بنیاد پر ہم ریزرویشن کی 50 فیصد کی حد کو اکھاڑ پھینکیں گے۔
