گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں کافی اضافہ

   

خانگی اسکولس کئی اولیائے طلباء کے لیے ناقابل گنجائش
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : گذشتہ چند ماہ میں حیدرآباد کے گورنمنٹ اسکولس میں پرائمی اور ہائی اسکول طلبہ کے داخلوں میں کافی اضافہ ہوا ہے کیوں کہ خانگی اسکولس یا تو بند ہوگئے ہیں یا ناقابل گنجائش ہوگئے ہیں ۔ نندی مسلائی گوڑہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کے اندر کاریڈرس میں چلنے کے لیے جگہ نہیں ہوتی ہے کیوں کہ طلبہ کا ایک بیاچ باہر جاتے ہی ایک اور بیاچ اندر آتا ہے ۔ 8 ویں جماعت تک طلبہ سے ٹرانسفر سرٹیفیکٹ ( ٹی سی ) نہ پوچھنے کی ریاستی حکومت کی پالیسی سے بھی گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ قبل ازیں اسکولس ٹی سی پر اصرار کرتے تھے اور خانگی اسکولس یہ سرٹیفیکٹ جاری کرنے سے قبل پوری فیس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر محمد لائق علی خاں نے کہا کہ ہمارے یہاں 480 طلبہ ہیں گذشتہ سال اس اسکول میں 327 طلبہ تھے ہم اسکول دو بیاچس میں اور تین زبانوں میں چلا رہے ہیں ۔ یہ ایک اسکول میں طلبہ کے داخلوں میں 46 فیصد کا یہ اضافہ شہر کے دوسرے گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کا ثبوت ہے ۔ گورنمنٹ اسکولس میں طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ خانگی اسکولس کی تعداد میں کمی ہوئی ہے ۔ حیدرآباد میں 2019-20 میں 2,083 خانگی اسکولس تھے شہر میں اب خانگی اسکولس کی تعداد گھٹ کر 1886 ہوگئی ہے جس میں 94 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ حیدر گوڑہ گورنمنٹ اسکول کے کلاس روم کے باہر ، راجیشوری نے اس کے دو بچوں وینکٹ کرن اور واسوی کا کلاس I اور کلاس IV میں داخلہ کروایا ۔ راجیشوری نے کہا کہ وہ لوگ نیو برلینٹ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے تھے ، لاک ڈاؤن برخاست کئے جانے کے بعد اسکول نے ہم سے سال گذشتہ اور اس سال کی فیس بھی ادا کرنے کے لیے اصرار کیا ۔ میرا بیٹا یو کے جی میں تھا اور اس نے آن لائن کلاسیس پر توجہ نہیں دی ، اس اسکول کے بارے میں معلوم ہونا ایک خوش قسمتی ایک رحمت ثابت ہوا ۔ حیدرآباد میں تقریبا 377 گورنمنٹ اسکولس ہیں جو اپرپلی میں چار کلاس روم کے چھوٹے اسکول سے لے کر نندی مسلائی گوڑہ اور بیگم پیٹ میں ملٹی اسٹوریڈ بلڈنگ کامپلیکسیس تک کے ہیں ۔ حیدرگوڑہ اسکول کی ہیڈ مسٹریس سی سوہاسنی نے بتایا کہ ہمارے اسکول میں 158 طلبہ ہیں ۔ اس سال زیادہ تر داخلے خانگی اسکولس ترک کرنے والے طلبہ کے ہوئے ہیں ۔ داخلہ کے لیے طلبہ کو برتھ سرٹیفیکٹ داخل کرنا ہوتا ہے جس پر ہم ان کے ناموں کا اندراج کردیتے ہیں ۔۔